بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا مکروہ دھندا بے نقاب۔۔۔ خواتین ٹی وی اینکرز کو پروگرام سے پہلے کیا ہدایات جاری کی جاتی ہیں؟ ایسا انکشاف جسے جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

datetime 6  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار انصار عباسی نے اپنے کالم خواتین اینکرز کو حجاب سے روکنے والا میڈیا میں لکھا کہ ماضی قریب میں مجھے دو مختلف اہم ٹی وی چینلز سے تعلق رکھنے والی دو نامور خواتین ٹی وی اینکر پرسنز نے الگ الگ ملاقات میں بتایا کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سکارف پہننا چاہتی ہیں لیکن متعلقہ ٹی وی چینلز کی انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے ٹاک شوز کے دوران نہ سر ڈھانپ سکتی ہیں اور نہ ہی سکارف لے کر

پروگرام کر سکتی ہیں۔ یعنی اگر نوکری کرنی ہے اور ٹی وی ٹاک شوز کی میزبانی کرنی ہے تو حجاب، سکارف یادوپٹہ نہیں چلے گا۔ ان میں سے ایک خاتون اینکر بہت پریشان دکھائی دیں اور کہنے لگیں میں تو اب میڈیا میں نوکری ہی نہیں کرنا چاہتی اور کوشش ہے کہ درس و تدریس کے شعبہ کو جوائن کر لوں۔ اُن کا کہنا تھا کہ نوکری اُن کی مجبوری ہے کیونکہ انہیں اپنے گھر اور بچوں کے اخراجات کے لیے پیسیکی ضرورت ہے اس لیے جب تک کوئی دوسری نوکری نہیں ملتی مجبوراً میڈیا کی نوکری کرنی پڑے گی۔ نجانے اور کتنی خواتین کو میڈیا اور دوسرے کئی شعبوں میں ان حالات کا سامنا ایک ایسے ملک میں ہے جو اسلام کے نام پر بنا لیکن وہاں اسلامی لباس پہننے پر نوکری پیشہ خواتین کو روکا جاتا ہے۔ ایسا فرانس یا مغرب کے کسی دوسرے ملک میں ہو تو دنیا بھر میں شور مچتا ہے لیکن افسوس کہ اگر پاکستان کے میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کو بھی ان حالات کا سامنا ہے تو پھر اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اس غیر قانونی، غیر آئینی اور سب سے اہم غیر اسلامی اقدام کے خلاف کون آواز اُٹھائے گا۔ ایسا نہیں کہ میڈیا میں کام کرنے والی ہر خاتون کو ان حالات کا سامنا ہے۔ عموماً میڈیا میں خواتین کو ماڈلز، فیشن اور دیکھنے والوں کو attract کرنے کے لیے شو پیس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو میری نظر میں خواتین کا بدترین استحصال ہے،

اُن کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اُن کی یہ توہین ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ ایسا بھی نہیں کہ میڈیا میں ہر کسی کی ایسی سوچ ہو۔ یہاں ایسی اینکر پرسنز ہیں جنہوں نے خالص اسلامی وجوہات کی بنا پر سر ڈھانپنا شروع کیا اور اُنہیں اُن کی مینجمنٹ نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ مثال کے طور پر نامور اینکر پرسن مہر عباسی نے جب اپنے شو میں دوپٹہ لینا شروع کیا تو اُنہیں کسی ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مہر عباسی نے اس تبدیلی پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا یہ پیغام دیا:’’لوگ پوچھ رہے ہیں

میں نے دوپٹہ کیوں لینا شروع کر دیا۔ بہت پڑھنے اور سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، یہ ایک لمبا سفر تھا، مجھ پر کسی نے دوپٹہ مسلط نہیں کیا یہ میری اپنی مرضی ہے، سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ عورتیں مجھے کہتی ہیں کہ آپ ہمارے لیے فیشن آئیکن ہیں مجھے اس پر الٹا شرمندگی ہوتی تھی۔‘‘مہر عباسی نے بہت خوبصورت بات کی ’’سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے‘‘۔ اب جو اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا چاہیں اُسے ایسا کرنے سے میڈیا ہی اگر روکے گا تو

پھر ایسی خواتین کے حق کے لیے کون آواز اٹھائے گا۔ ایک اور خاتون اینکر پرسن نادیہ مرزا جو سکارف لے کر اپنا ٹاک شو کرتی ہیں اُنہوں نے اپنے ایک حالیہ ٹیوٹ میں لکھا: ??’’میرا حجاب لینے کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جیسے نماز آپ کو برائیوں سے روکتی ہے ایسے ہی حجاب آپ کو احساس دلاتا ہے کہ اس کی عزت اور حرمت آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘میں پہلے بھی یہ بات اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ ایک بار ایک ٹی وی وہ چینل نے مجھے ایک ٹاک شو دینے کی بات کی تو مجھے کہا کہ

آپ کے ساتھ ایک خاتون میزبان کو بھی پروگرام میں رکھا جائے گا۔ میں نے وجہ پوچھی کہ خاتون کیوں تو مجھ سے کہا گیا اس لیے کہ اس سے ریٹنگ بہتر آتی ہے یعنی زیادہ لوگ دیکھتے ہیں۔ میں تو ٹی وی کا صحافی نہیں نہ ہی کبھی مجھے ٹی وی اینکر بننے کا شوق رہا لیکن مجھے یہ بات سن کر بہت دکھ ہوا۔ ایک بڑے ٹی وی چینل کے اہم ذمہ دار سے میں نے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے چینل میں کوئی ایک بھی خاتون اینکر پرسن یا نیوز ریڈر ایسی نہیں جو سرڈھانپتی ہو، پردہ کرتی ہو یا

حجاب لیتی ہو۔ میں نے سوال کیا کہ سر ڈھانپنے والی، پردہ کرنے والی اور حجاب لینے والی کسی خاتون میں اُنہوں نے قابلیت نہیں دیکھی کہ وہ خبریں پڑھے یا کسی پروگرام کی میزبانی کرے۔ ٹی وی چینل کے ذمہ دار نے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک بات کر رہے ہیں اور وعدہ بھی کیا کہ تبدیلی لائی جائے گی لیکن اس بات کو کئی ماہ گزر گئے لیکن اُس چینل میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔پردہ کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے، ہمارے آئین کا کیا منشاء ہے اس کے بارے میں تو کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے

لیکن میرا سوال اُس نام نہاد سیکولر اور لبرل میڈیا سے ہے جو بے پردگی اور فحاشی کو پھیلانے اور ایسا کرنے والوں کی مرضی اور اُن کے حق کو تسلیم کرنے پر تو زور دیتا ہے اور بنیادی حق سے جوڑتا ہے لیکن اُن خواتین اینکر پرسنز کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق حجاب لیں اورسر ڈھانپیں۔ اس معاملہ کو پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن، صحافتی تنظیموں، حکومت اور پارلیمنٹ کو اُٹھانا چاہیے تاکہ جو نوکری پیشہ خاتون چاہے اُس کا کسی بھی شعبہ سے تعلق ہو اگر وہ پردہ کرنا چاہتی ہے، سر ڈھانپنا یا حجاب کرنا چاہتی ہے تو اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…