اسلام آباد (نیوز ڈیسک )امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ای سگریٹ کا استعمال پھیپھڑوں میں شدید نوعیت کی تکالیف کا باعث ہوتا ہے۔ یہ تکالیف بھی اسی قدر شدت کی ہوتی ہیں، جس قدر شدت کے مسائل تمباکو نوشی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ ای سگریٹ کے کش سے پیدا ہونے والا دھواں بھی پھیپھڑے کے سیلز کو اسی قدر نقصان پہنچاتا ہے جس قدر کہ سگریٹ کا دھواں۔ اس کے علاوہ اس کا مسلسل استعمال پھیپھڑوں کو لاحق ہونے والے دائمی مرض سی اوپی ڈی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اس بارے میں برٹش لنگ فاو¿نڈیشن کے میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر نکولس ہاپکنز نے میڈیا کو بتایا ہے کہ عوام کی اکثریت اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ ای سگریٹ عام تمباکو نوشی جتنی نقصان دہ نہیں تاہم اب ہمارے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جن کی روشنی میں ہم ان کو نقصان دہ بیان کرسکتے ہیں۔ای سگریٹ سے پیدا ہونے والی بیماری سی او پی ڈی دراصل بیماریوں کی متعدد اقسام کا ایک مجموعہ ہے جس میں مرکزی علامت پھیپھڑے میں ہواکا پوری طرح داخل نہ ہوپانا ہوتی ہے۔ اس مجموعہ میں شامل بیماریوں میں شدید نوعیت کا برونکائٹس اور ایمفیزیمہ بھی شامل ہیں۔ اس بیماری کا شکار افراد کو ہوا کی سخت کمی، گھٹن، سانس لینے میں دشواری جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں اور ہواکے نچلے راستوں میں بلغم جمع ہونے لگتا ہے۔ عام طور پر اس کیفیت سے کھانسی کے دورے جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے سگریٹ نوش افراد کی مخصوص کھانسی کہا جاتا ہے تاہم درحقیقت یہ بے حد خطرناک اور زندگی کیلئے نقصان دہ پھیپھڑوں کی بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اندازے کے مطابق64ملین سی او پی ڈی کے مریض موجود ہیں جن میں سے تیس لاکھ کے قریب افراد اسی مرض کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کے استعمال پر قابو نہ پایا گیاتو آئندہ پندرہ برس میں سی او پی ڈی دنیا بھر میں اموات کا باعث بننے والی تیسری بڑی بیماری بن جائے گی۔ مذکورہ تجربے کیلئے ماہرین نے انسانی پھیپھڑوں کے ایپیتھیلیئل سیلز کو ای سگریٹ کے دھوئیں سے ایک سے چھے گھنٹے تک متاثر کیا تھا۔ ماہرین نے محسوس کیا کہ پھیپھڑوں پر ای سگریٹ کے دھوئیں کے ایک گھنٹے تک استعمال سے پیدا ہونے والے اثرات میں سیلز میں ہونے والے پروٹین پروسس کو شدید طور پر نقصان پہنچا تھا۔یہ بالکل ویسا ہی نقصان ہے جو کہ عام سگریٹ کے دھوئیں اور سگریٹ کے دھوئیں والے ماحول میں رہنے سے پھیپھڑوں کو پہنچتا ہے۔ یہ پروٹینس پروسس جو سگریٹ کے دھوئیں سے تباہ ہوا ، پھیپھڑوں کی صحت کیلئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے سیل کی انفرادی صحت بھی درست رکھنا ممکن ہوتا ہے، اس پروسس کے متاثر ہونے سے اگر ایلوی اولی کو نقصان پہنچ جائے تو یہ دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پھیپھڑے خون میں آکیسجن شامل کرنے کا عمل پوری طرح ادا کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری



















































