منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

’’ وزیراعظم عمران خان تو’فوت، ہو چکے ہیں‘‘اچانک کمرے میں جیسے بم پھٹا ہو، وزیراعظم سےصحافیوں کی ملاقات کے دوران چانک یہ نعرہ کس نے مارا ، رئوف کلاسرا کے معروف صحافی سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات نے سب کو حیران کر دیا

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے صحافیوں سے سوالات کا جواب بھی دیا۔ وزیراعظم کی صحافیوں سے ملاقات کی روداد اپنے کالم میں لکھتے ہوئے معروف صحافی رئوف کلاسرا لکھتے ہیں کہ نسیم زہرہ نے کھڑے ہوکر کہا: خان صاحب جو کچھ سوشل میڈیا پر آپ کی پارٹی کے لوگ ان صحافیوں کے ساتھ کر رہے ہیں،

جو تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہیں، اس بارے انہیں اندازہ ہے ؟ نسیم زہرہ نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر عاصمہ شیرازی اور سلیم صافی پر ہونے والی گالی گلوچ پر تنقید کی۔ عمران خان بولے: کبھی بھی ایسی باتوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، بلکہ وہ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ ایسی باتوں سے پارٹی کا نقصان ہوتا ہے۔ چوہدری غلام حسین، جو اتنی دیر سے بالکل خاموش بیٹھے ہوئے تھے، اچانک زور سے بولے: وزیراعظم عمران خان تو’فوت، ہو چکے ہیں۔ سب چونک پڑے۔ یوں لگا جیسے کمرے میں بم پھٹا ہو۔ سب کی نظریں چوہدری غلام حسین کی طرف گئیں۔ عمران خان نے بھی غیرارادی طور پر چوہدری غلام حسین کو فوراً دیکھا۔ عمران خان، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی سمیت ہم صحافی اور وزیراعظم کا سول، ملٹری سٹاف سب کچھ بھول کر ششدر اور گھبرائی ہوئی نظروں سے اب چوہدری غلام حسین کو دیکھ رہے تھے۔ اینکر جاسمین منظور زور سے بولیں: چوہدری صاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں؟عمران خان کی نظریں اب چوہدری غلام حسین پر جمی ہوئی تھیں۔ وزیراعظم کے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسی تسبیح کے دانوں کی رفتار میں اچانک تیزی آگئی تھی۔واضح رہے کہ رئوف کلاسرا کا وزیراعظم سے صحافیوں کی ملاقات سے متعلق یہ دوسرا سلسلہ وار کالم ہے جبکہ اس حوالے سے ان کے اس کالم کا سلسلہ جاری ہے اور مزید انکشافات سامنے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…