جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

ڈی پی او تبادلہ ازخود نوٹس کیس۔۔تم خاور مانیکا کے بچوں کے مامے لگتے ہو، چیف جسٹس کا احسن جمیل گجر پر اظہار برہمی،گرفتاری کا حکم، وزیراعلیٰ پنجاب کو آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نوٹس بھیجنے کا فیصلہ

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے معاملے پر دو انکوائریز کا حکم دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نوٹس کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ آئی جی پنجاب سے دونوں انکوائریز کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں

آج ڈی پی او تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے کی۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب کلیم امام، احسن سلیم گجر، خاور مانیکا، مبشرہ مانیکا اور پی ایس ٹو وزیراعلیٰ حیدر عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کلیم امام سے استفسار کیا کہ لائیں دکھائیں وہ فائل جس میں آپ نے ڈی پی او کے تبادلے کے تحریری احکامات دئیے جس پر آئی جی پنجاب کلیم امام کا کہنا تھا کہ انہوں نے زبانی احکامات دئیے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ اس وقت کہاں تھے جب آپ نے زبانی احکامات دئیے ۔ آئی جی کلیم امام کا کہنا تھا کہ میں اس وقت اسلام آباد میں تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رات ایک بجے آپ زبانی احکامات دے کر تبادلہ کر رہے ہیں کیا صبح نہیں ہونی تھی؟آپ نے ادارے کو بدنام کروا کر رکھ دیا ہے۔ چیف جسٹس نے احسن جمیل گجر سے استفسار کیا کہ آپ ہوتے کون ہیں کسی سرکار افسر کے تبادلے کے احکامات جاری کرنیوالے ؟آپ بچوں کے مامے لگتے ہیں؟ احسن جمیل گجر نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ خاور مانیکا کے بچوں کے گارڈین ہیں اور بطور کفیل کے سارے معاملے میں موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ وزیراعلیٰ کے پاس کیا کر رہے تھے ، سرکاری اثر و رسوخ پر ڈی پی او کا تبادلہ کیوں کیا۔ اس موقع پر آئی جی کلیم امام نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ

احسن جمیل گجر کے خلاف کارروائی کرینگے۔ پی ایس ٹو وزیراعلیٰ حیدر سے استفسار کرتے ہوئے عدالت نے سوال کیا کہ سرکاری اثر و رسوخ پر سرکاری افسر کا تبادلہ کیوں کیا گیا اور ڈی پی او کو فون کر کے چارج چھوڑنے اور ڈیرے پر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا؟ پی ایس حید ر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے الفاظ استعمال نہیں کئے۔ ڈی پی اور آر پی او کو وزیراعلیٰ نے چائے پر بلایا تھا۔

عدالت میں خاور مانیکا نے چیف جسٹس کے استفسار پر واقعہ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں ان کی بیٹی نے بتایا کہ پولیس والوں نے اسے روک لیا ہے اور بدتمیزی کی ہے ، پولیس والوں نے شراب پی رکھی ہے، وہ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے پولیس والوں کو ڈانٹا ، پولیس والوں سے شراب کی بو آرہی تھی۔ میری بیٹی نے کہا کہ کیا ایک عورت رات کو پیدل نہیں چل سکتی ؟

میں نے کہا کہ جہاں یہ جا رہی تھی اب اسی دربار سے معافی ملے گی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی کے تقدس کو ہر حالت میں بچائیں گے ، ہاتھ پکڑنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےگا۔ چیف جسٹس نے معاملے پر دو انکوائریز کا حکم دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آرٹیکل 62ون ایف کے تحت نوٹس کرنے کا حکم دیا ۔ چیف جسٹس نے آئی جی کلیم امام سے دونوں انکوائریز کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کر لی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…