جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان اور فرانسیسی صدر کی فون کال پہلے سے طے شدہ تھی، عمران خان نے فون سننے سے انکار کیوں کیا؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان جب سینئر صحافیوں سے ملاقات کر رہے تھے تو فرانسیسی صدر کا فون آیا اس موقع پر عمران خان نے فون سننے سے معذرت کی تھی، اس تمام صورتحال کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ جب وزیر اعظم سینئر صحافیوں سے ملاقات کر رہے تھے اس وقت فرانس کے صدر کی پہلے سے طے شدہ کال آئی جس پر انہوں نے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کو

ہدایت کی کہ کال کا وقت تبدیل کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ دو ملکوں کے سربراہان کے درمیان فون پر بات کرنے کا وقت پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے اور ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کسی حکمران کو دوسرے ملک کے حکمران کی جانب سے غیر متوقع طور پر کال موصول ہو۔ فون کال سے قبل اس ملک کے سفارت خانے کی طرف سے درخواست کی جاتی ہے جس کے سربراہ گفتگو کرنے کی خواہش رکھتے ہوں، جس میں فون پر ہونے والی بات چیت کے ایجنڈے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر دوسرا حکمران رضامندی کا اظہار کرے تو سفارتی پروٹوکول کے مطابق کال کا وقت طے کیا جاتا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی کال پہلے سے طے شدہ تھی، اسی حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وقت میں ردوبدل کی کوشش کی تھی کیونکہ وزیراعظم ایک اجلاس میں تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی فون پر گفتگو ہوگئی تاہم اس بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ نہیں کیا جا سکا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جب سینئر صحافیوں سے ملاقات کر رہے تھے تو فرانسیسی صدر کا فون آیا اس موقع پر عمران خان نے فون سننے سے معذرت کی تھی، اس تمام صورتحال کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…