اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والا لکھ پتی نکلا

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک)ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر ایک ایک روپیہ جمع کرنے والا بھکاری لکھ پتی نکلا۔ شکل و صورت اور اپنے حلیے کے اعتبار سے انتہائی غریب دکھنے والا مظفر گڑھ کے رہائشی نے ملتان کی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر اپنے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے جمع کر لیے ہیں۔ شوکت بھکاری نامی شخص اردو، پنجابی اور انگریزی روانی سے بولتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شوکت بھیک مانگتے مانگتے اب لکھ پتی بن چکا ہے جس کا اعتراف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اس نے خود کیا ہے۔ شوکت کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ میں روزانہ ملتان سے ایک ہزار روپے کماتا ہوں اور اس طرح مہینے میں 30 ہزار روپے آرام سے کما لیتا ہوں جب کہ یہ ساری رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع کراتا ہوں۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ آج کل کے دور میں ایک روپیہ کسی کی جیب میں کھلا نہیں ہوتا اسی لیے لوگ مجھے دس سے بیس روپے دے دیتے ہیں۔ شوکت نے بتایا کہ اس کے اکاؤنٹ میں تقریباً 10 لاکھ سے زائد کی رقم موجود ہے جو کہ اس نے بچوں کے نام کردی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سالانہ ہزاروں روپے بیمہ پالیسی کی مد میں بھی ادا کرتا ہے، شوکت کا کہنا ہے کہ وہ سالانہ 84 ہزار روپے بیمہ پالیسی کی مد میں ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کھانا بھی مانگ کر کھاتا ہے، چار جگہ سے مانگتا ہے تو ایک سے کچھ نہ کچھ کھانے کو مل ہی جاتا ہے۔ شوکت بھکاری کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں نوکری کے لیے ایم این اے اور ایم پی اے کے پاس بھی گیا لیکن دھکے کھا کھا کر اب سڑک کا بادشاہ بن گیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس کے پاس نوٹ ہی نوٹ ہیں اور وہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے بھی فنڈ دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…