بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

بی این پی نے وفاقی وزیر کی جانب سے پشتونوں سے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے پی ٹی آئی سے وضاحت طلب کرلی 

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے وفاقی وزیر کی جانب سے پشتونوں سے متعلق نازیبہ الفاظ استعمال کرنے سے پی ٹی آئی سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پشتونوں سے متعلق وفاقی وزیر کے بیان کی وضاحت کرے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے طالبان کا گڑھ پنجاب ہے پنجاب کے خلاف کیوں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک میں پشتونوں کی حیثیت کو پہلے بھی تسلیم نہیں کیا گیا اور اب اتنی قربانیوں کے بعد پشتونوں کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں وفاقی وزیر شیری مزاری کے علاوہ دیگر قوتوں نے بھی پشتونوں کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور بدقسمتی سے تعلیمی اداروں کے سلیبس میں لکھا جارہا ہے کہ یہ محب وطن نہیں اور بار بار تسلسل سے دوہراتے ہیں کہ پشتون دہشت گرد ہیں مگر تاریخ خواہ ہے کہ پشتونوں نے ہمیشہ امن بھائی چارے کے لئے جدوجہد کی ہے اگر وفاقی وزراء پشتونوں اورطالبان کا فرق نہیں کرسکتے تو ان کو عوام پر حکمرانی کا کوئی اختیار نہیں ہے وفاقی وزیر یہ بتائیں کہ انہوں نے جو بیان دیا ہے کیا وہ اپنی پارٹی قیادت کو اشارہ کرتے ہیں اور ان کی پارٹی کے سربراہ بھی پشتون ہیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اس بارے خود وضاحت کرے ورنہ یہ اچھا نہیں ہوگا۔دریں اثناء پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ پشتونوں کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کریں گے وفاقی وزیر نے پشتونوں سے متعلق جو ریمارکس دیئے ہیں اس کی ہم مذمت کرتے ہیں پشتونوں نے ہمیشہ امن بھائی چارے کو فروغ دیا ہے اور دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے پشتون دہشت گرد نہیں بلکہ پشتون خطے کو دہشت گردی کا مرکز بنایا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہا کہ سینٹ کے فلور پر وفاقی وزیر نے پشتونوں سے متعلق ریمارکس پر تردید کردی اور کہا کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا اس کے باوجود جو بھی پشتونوں کی توہین کرے گا اس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہونگے اور اس طرح عملیات کو ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے پشتونوں کے اکابرین نے اس خطے کے لئے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں اور امن کا درس دیا ہے اور پشتونوں نے ہمیشہ ہر امر ‘ جابر اور سامراج کا مقابلہ کیا ہے

پشتون انتہاء پسند نہیں ہیں پشتونوں کی سرزمین کو دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا اڈا بنایا اور آج جو جنگ ہے وہ پشتونوں کی پیدا کردہ نہیں بلکہ پشتونوں پر مسلط کرکے پشتونوں کو اپنے ہی وطن سے بے دخل کر دیاگیا ہم نے کبھی بھی انتہاء پسندی نہیں آج بھی ہم امن ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور اس طرح کے ہتک آمیز رویے کو برداشت نہیں کریں گے پشتونوں نے ہمیشہ امن بھائی چارے کو فروغ دیا ہے اور وفاقی وزیر کی جانب سے اس طرح کے الفاظ پشتونوں سے متعلق کہنا انتہائی قابل مذمت اقدام ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…