ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ساکھ اور ووٹ بینک کس نے تباہ کیا اورعمران خان کی ساکھ اور ان کے مینڈیٹ کو کون تباہ کر رہا ہے؟حکومت صرف 12دن میڈیا اور پبلک میں غیرمقبولیت کی انتہا کو کیوں پہنچ گئی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

ہم اگر ملک کی دونوں پرانی پارٹیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے لیڈر میاں نواز شریف کے غلط فیصلوں‘ غلط موقف اور خاندانی غلطیوں کی وجہ سے پارٹیوں کی ساکھ اور ووٹ بینک دونوں تباہ ہو گئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا ایک دوسرا المیہ سامنے آ رہا ہے‘ یہاں پارٹی کی غلطیاں‘ پارٹی کا بی ہیویئر‘ پارٹی کا تکبر اور پارٹی کی غیر سنجیدگی‘ قائد کی ساکھ اور قائد کے مینڈیٹ کو تباہ کر رہی ہے‘

آپ شیخ رشید کی حرکتیں ملاحظہ کریں‘ یہ پہلے ریلوے کے افسر سے لڑ پڑے‘ پھر یہ گلیوں میں موجود لوگوں سے الجھ پڑے‘ یہ آج فل پروٹوکول میں کراچی سٹی سٹیشن گئے اور وہاں عام پبلک کیلئے دروازے بند کر دیئے گئے‘ انہوں نے 22 اگستکو ایک بوڑھی خاتون کو دھکا دیا‘ ایک کیمرہ مین نے دھکے کی فوٹیج بنا لی‘ فرزند راولپنڈی نے اس کا موبائل دیوار پر مار کر توڑ دیا، آپ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی غیرسنجیدگی اور تکبر بھی ملاحظہ کیجئے، آپ فیصل جاوید کا غرور اور زبان بھی دیکھئے اور آپ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اطلاعات کے کارنامے دیکھئے‘ انہوں نے کل سماء ٹی وی کے سٹاف کو ماں بہن کی گالیاں دیں اور یہ اس کے بعد پبلک میں خواتین کے بارے میں کیا کیا فرما رہے ہیں، یہ کیا ہو رہا ہے‘ یہ ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو بارہ دن میں میڈیا اور پبلک دونوں میں غیر مقبولیت کی انتہا کو چھو رہی ہے لیکن حکومت اپنی غلطیوں کو انڈرسٹینڈ کرنے کی بجائے‘ یہ اپنے تکبر‘ اپنی نان سیریس نیس اور اپنی بد زبانی پر توجہ دینے کی بجائے میڈیا کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے ایک ایجنڈے کے تحت انہیں غیر مقبول بنایا جا رہا ہے‘ میڈیا پر یہ الزام ماضی میں بھی حکومتیں لگاتی رہی ہیں لیکن یہ عموماً دو تین سال کے اقتدار کے بعد لگایا جاتا تھا‘ یہ پہلی حکومت ہے جسے دس دن میں میڈیا جانبدار دکھائی دے رہا ہے‘ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ حکومت کا میڈیا اور میڈیا کا حکومت سے رویہ کیسا ہے؟ کیسا ہونا چاہیے اور میڈیا کو حکومت کو مزید کتنا ہنی مون پیریڈ دینا چاہیے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…