جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

خاور مانیکا کو روکنے کے واقعے پر ڈی پی او کیخلاف کارروائی، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کیا کردار رہا؟ رؤف کلاسرا نے کھری کھری سنا دیں

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

پاکپتن (مانیٹرنگ ڈیسک) خاور مانیکا کو پولیس نے روکا لیکن وہ نہ رکے جس کی وجہ سے ان کی گاڑی کو زبردستی روکا گیا، اس پر ڈی پی او پاکپتن کو چارج چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کی خبر سنتے ہی معروف صحافی رؤف کلاسرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کھری کھری سناتے ہوئے لکھا کہ

ایک شاہی خاندان سے 10 سال بعد جان چھوٹی تو مانیکا خاندان پیدا ہو گیا، ڈی پی او پاکپتن خاور مانیکا کے جبر کا شکار، اس ملک پر لگتا ہے جنات کا سایہ ہے، کاش وزیراعلیٰ عثمان بزدار عزت کماتا اور ڈی پی او کو سزا کی بجائے خود گھر چلا جاتا، بزدار صاحب آپ نے مایوس کیا، پہلے امتحان میں صفر نمبر لیے۔ یاد رہے کہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 23 اگست کو خاور مانیکا کی گاڑی کو روکا گیا لیکن وہ نہ رکے جس کی وجہ سے ان کی کار کو زبردستی روکا گیا اس موقع پر خاور مانیکا نے غلیظ زبان کا استعمال کیا، اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آر پی او اور ڈی پی او کو جمعہ کو طلب کر لیا اور معاملہ ختم کرنے کی ہدایات کیں مگر ڈی پی او نے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا اور اپنے موقف میں کہا کہ پولیس کا کوئی قصور نہیں، میں معافی نہیں مانگ سکتا، اپنے اس موقف سے انہوں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بھی آگاہ کر دیا جس پر انہیں ڈی پی او کے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کی خبر سنتے ہی معروف صحافی رؤف کلاسرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کھری کھری سناتے ہوئے لکھا کہ ایک شاہی خاندان سے 10 سال بعد جان چھوٹی تو مانیکا خاندان پیدا ہو گیا، ڈی پی او پاکپتن خاور مانیکا کے جبر کا شکار، اس ملک پر لگتا ہے جنات کا سایہ ہے، کاش وزیراعلیٰ عثمان بزدار عزت کماتا اور ڈی پی او کو سزا کی بجائے خود گھر چلا جاتا، بزدار صاحب آپ نے مایوس کیا، پہلے امتحان میں صفر نمبر لیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…