اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پھیپھڑوں کو انسانی جسم سے باہر 24 گھنٹے تک زندہ رکھنے والا نظام تیار

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک )ماہرین نے انسانی پھیپھڑے کو جسم سے باہر زندہ رکھنے والی مشین تیار کی ہے جس کے تحت پھیپھڑے 24 گھنٹے تک اس مشین کے تحت سانس لے سکیں گے اور اس طرح پھیپھڑوں کی منتقلی کے منتظر مریضوں کی دوگنی تعداد کی جان بچانا ممکن ہوگا۔عطیہ کئے جانے والے پھیپھڑے کو مریض تک پہنچانے کے لیے برف میں رکھا جاتا تھا تاکہ وہ خراب نہ ہوجائے لیکن صرف 6 گھنٹے بعد ہی پھیپھڑے ناکارہ ہوکر مریض میں منتقلی کے قابل نہیں رہتے تھے۔ اب نئے طریقے میں پھیپھڑوں کو ایک پلاسٹک باکس میں رکھا جاتا ہے جس میں ایک پمپ سے مسلسل خون فراہم کیا جاتا ہے اور اسے ’سانس لیتے پھیپھڑوں‘ کا نام دیا گیا ہے جس سے اعضا بہتر حالت میں رہتے ہیں اور جلد خراب نہیں ہوتے۔ اس سے قبل کسی عطیہ کی وصیت کرنے والےشخص کی وفات کے بعد پھیپھڑے نکالنے اور اسے وصول کرنے والے مریض تک پہنچانے میں بہت وقت لگتا تھا اور پھیپھڑوں کی صرف 20 فیصد تعداد ہی مریضوں کے لیے کارآمد ہوتی تھی۔
برطانیہ میں رائل برومٹن اینڈ ہیئرفیلڈ ہسپتال اور ریسرچ سینٹر میں اس نئے نظام کے تحت 12 آپریشن کئے جاچکے ہیں جو کامیاب رہے ہیں، نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ ا±ٹھانے والے مریضوں کا پھیپھڑوں کی منتقلی کے بعد کہنا تھا کہ وہ خوش نصیب ہیں کہ اس ٹیکنالوجی نے ان کی جان بچائی کیونکہ مریضوں کی بہت بڑی تعداد پھیپھڑوں کے انتظار میں ہی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…