اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عالمی ادارہ صحت :بیماریوں کے نا م رکھنے میں احتیا ط برتیں

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ بیماریوں کے نام ایسے رکھیں جائیں جو سماجی طور پر قابلِ قبول ہوں اور ایسے نام رکھنے سے گریز کیا جائے جن سے کسی ملک، کسی فرد کی توہین ہو اور نہ ہی ناموں میں جانوروں کا ذکر ہو۔ادارے نے بیماریوں کے نام منتخب کرنے کے حوالے سے سائنسدانوں اور میڈیا کے لیے چند ہدایات جاری کی ہیں۔مشرق وسطیٰ سانس کی بیماری‘ اور ’ہسپانوی زکام‘ جیسی بیماریوں کی مثال دیتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے نام رکھنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ان ناموں میں مخصوص مقامات کا ذکر ہے۔ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق عام اصلاحات پر مشتمل آسان نام رکھے جائیں۔ادارے کے مطابق حالیہ برسوں میں کئی نئی انسانی بیماری سامنے آئی ہیں جن کے ناموں کی وجہ سے کچھ مخصوص ثقافتوں، علاقوں اور معیشتوں کی بدنامی ہوئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے ہیلتھ سکیورٹی ڈاکٹر کیاجا فوکودا کا کہنا ہے کہ ’ بظاہر یہ ایک معمولی مسئلہ لگتا ہے لیکن بیماریوں کے نام سے براہ راست متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔‘ڈاکٹر کیاجا فوکودا کا مزید کہنا ہے کہ کچھ بیماریوں کے ناموں کی وجہ سے مخصوص مذہبی اور نسلی گروہوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ان کی وجہ سے سفری مشکلات کے علاوہ تجارتی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جانوروں کی غیرضروری تلفی کی وجہ بھی یہ نام بنے ہیں۔’ان سے لوگوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں‘ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق نئی انسانی بیماریوں کے نام سادہ اور چھوٹے رکھے جائیں اور بڑے اور پیچیدہ نام رکھنے سے پہلے ہدایات کو محلوظِ خاطر رکھا جائے۔ادارے نے کہا ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں جن سے خوف پھیلے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…