اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کہیں آ پ کا بستر آ پ کی بیماریوں کا باعث تو نہیں بن رہا ؟

datetime 10  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )سارا دن کام کرنے کے بعد اپنے بیڈ میں لیٹنے سے زیادہ کوئی چیز آرام دہ نہیں ہے لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بیڈ کی چادر کے نیچے لاکھوں چھوٹے چھوٹے جراثیم ہوتے ہیں جو ہمیں بیمار کر سکتے ہیں۔ گدے، کمبل اور تکیوں میں موجود ہماری جلد کے جھڑنے والے ذرات جراثیم کی افزائش کا باعث بنتے ہیں اور جواب میں یہ ننھی مخلوق انسانوں کو نزلے، زکام اور الرجی جیسی بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ بیڈ کی چادر میں پلنے والے جراثیم سے فوڈ پوائزننگ بھی ہو سکتی ہے۔ماہر حفظان صحت ڈاکٹر لیزا ایکرلے کا کہنا ہے کہ لوگوں کو لاشعوری طور پر اپنے بیڈ سے بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، انسان کے جسم سے ایک ہفتے میں تقریباً آدھا اونس جلد جھڑتی ہے، آپ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کے بیڈ میں کتنی جلد جمع ہوتی ہوگی۔جلدکی موجودگی کی وجہ سے مٹی میں پلنے والے جراثیم کی افزائش کے لیے بیڈ سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہوتی، یہ جراثیم اس قدر تیزی سے افزائش پاتے ہیں کہ ایک بیڈ میں 10ملین تک ہو سکتے ہیں۔ اکثر دن کے اوقات میں لوگ گھر سے باہر رہتے ہیں اور کھڑکیاں بند رکھتے ہیں جس کی وجہ سے نمی گھر کے اندر رہنے کی وجہ سے بیڈ کی چادر، کمبل اور تکیوں میں جذب ہوتی رہتی ہے۔لیزا ایکرلے نے ان جراثیم سے بچنے کے طریقے بتاتے ہوئے کہا کہ باقاعدگی کے ساتھ کمرے کی ویکیوم کلینر سے صفائی کی جائے، ننگا فرش جراثیم کی افزائش کا باعث بنتا ہے، اس پر قالین بچھایا جانا چاہیے،گھر سے جاتے وقت کمرے کی ایک کھڑکی کھلی رکھنے سے بھی جراثیم کے سدباب میں مدد مل سکتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لوگ اپنے اپنے کمبل اور بیڈ کی چادریں دھوپ میں لٹکا کر سکھایا کرتے ہیں، یہ طریقہ بھی جراثیم کے انسداد میں بہت حد تک معاون ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پہاڑوں کی سرد ہوا بھی ان جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے۔ بیڈ کی چادروں و دیگر سامان کو 60ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پانی میں دھونے سے بھی ان جراثیموں سے بچا جا سکتا ہے، لہٰذا اگر آپ بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے بیڈ کو صاف ستھرا رکھیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…