پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاکستان مالا مال ہوگیا، دریائے سندھ کے ساحل پر تیل و گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت ، حجم کویت میں موجود ذخائر سے بھی زیادہ ،تحریک انصاف کی آنیوالی حکومت کو بڑی خوشخبریاں سنادی گئیں

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے کوسٹل ایریا میں پاکستانی سمندری حدود میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے جن کا حجم کویت میں موجود ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔ امریکی کمپنی نے کھدائی کے لئے پیشگی ادائیگی بھی کردی ہے۔

12 سال سے تاخیر کے شکار معاملے کو نگران حکومت نے عملی جامہ پہنایا جس سے سالانہ 100 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر خارجہ عبداللہ ہارون نے خوشخبری دی ہے کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر گہرے سمندر میں پاکستانی سمندری حدود میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن کا حجم کویت میں دریافت ہونے والے ذخائر سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ بارہ سال سے التوا کا شکار تھا جسے نگران حکومت نے عملی جامہ پہنایا ہے اور امریکی کمپنی ایگزن موبیل نے کھدائی کرنے کے لئے حکومت پاکستان کو پیسگی ادائیگی بھی کردی ہے۔ عبداللہ ہارون نے کہا کہ تیل و گیس کے ان ذخائر کو نکالنے کیلئے گہرے سمندر میں پانچ ہزارمیٹر کھدائی کرنا ہوگی اور ایک اندازے کے مطابق حاصل ہونے والے تیل و گیس سے سالانہ 100 ملین ڈالر کی بچت ہوگی اور پاکستان کی تیل و گیس کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔  نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے کوسٹل ایریا میں پاکستانی سمندری حدود میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے جن کا حجم کویت میں موجود ذخائر سے بھی زیادہ ہے۔ امریکی کمپنی نے کھدائی کے لئے پیشگی ادائیگی بھی کردی ہے۔ 12 سال سے تاخیر کے شکار معاملے کو نگران حکومت نے عملی جامہ پہنایا جس سے سالانہ 100 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…