اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

حقہ پینا دل کے لیے سیگریٹ نوشی جتنا تباہ کن

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)حقہ پینے کی عادت بھی دل اور دوران خون کے لیے اتنی ہی تباہ کن ہے، جتنا سیگریٹ نوشی۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو کمپنیاں حقہ نوشی کو تمباکو نوشی کا محفوظ متبادل قرار دیتی ہیں، وہ درحقیقت لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ آج کل شیشہ کی شکل میں تمباکو کو حقے میں استعمال کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔

جس کے حوالے سے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ واٹر پائپ سے تمباکو کا استعمال بھی محفوظ نہیں۔ تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ حقہ پینے کی عادت کے نتیجے میں خون کی شریانوں پر سیگریٹ نوشی جیسے ہی مختصر المدت اور طویل المعیاد اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رواں سال کے شروع میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں 10 فیصد نوجوان حقہ پینے کی عادت کا شکار ہیں۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ فلیور تمباکو کا استعمال اکثر نوجوانوں کے لیے تمباکو مصنوعات کے استعمال کا پہلا ذریعہ بنتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان اور بڑی عمر کے افراد اس عادت کے نتیجے میں سیگریٹ جیسے زہریلے کیمیکلز سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت حقہ نوشی سیگریٹ کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ اجزاء جسم کا حصہ بناتی ہے کیونکہ اسے پینے کا دورانیہ ایک سیگریٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق عام طور پر اس کا ‘سیشن’ ایک گھنٹے تک ہوسکتا ہے اور اس دورانیے میں لوگ متعدد بار دھواں کھینچتے ہیں جو کہ بہت زیادہ سیگریٹ کے برابر نکوٹین جسم تک پہنچا دیتا ہے۔ اس نکوٹین کے اثرات دل اور شریانوں کے نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس عادت کے نتیجے میں سب سے پہلے تو شریانیں اکڑنا شروع ہوتی ہیں جس کے بعد بتدریج دل کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ یعنی شریانوں میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جو کہ آہستہ آہستہ دل کی جانب دوران خون کو محدود کرنے لگتا ہے، جس کے باعث دل کو اپنے کام کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صرف 30 منٹ تک حقہ پینا ہی شریانوں کو اکڑن کا شکار بنانے لگتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…