بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

حقہ پینا دل کے لیے سیگریٹ نوشی جتنا تباہ کن

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)حقہ پینے کی عادت بھی دل اور دوران خون کے لیے اتنی ہی تباہ کن ہے، جتنا سیگریٹ نوشی۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو کمپنیاں حقہ نوشی کو تمباکو نوشی کا محفوظ متبادل قرار دیتی ہیں، وہ درحقیقت لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ آج کل شیشہ کی شکل میں تمباکو کو حقے میں استعمال کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔

جس کے حوالے سے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ واٹر پائپ سے تمباکو کا استعمال بھی محفوظ نہیں۔ تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ حقہ پینے کی عادت کے نتیجے میں خون کی شریانوں پر سیگریٹ نوشی جیسے ہی مختصر المدت اور طویل المعیاد اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ رواں سال کے شروع میں برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں 10 فیصد نوجوان حقہ پینے کی عادت کا شکار ہیں۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ فلیور تمباکو کا استعمال اکثر نوجوانوں کے لیے تمباکو مصنوعات کے استعمال کا پہلا ذریعہ بنتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان اور بڑی عمر کے افراد اس عادت کے نتیجے میں سیگریٹ جیسے زہریلے کیمیکلز سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت حقہ نوشی سیگریٹ کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ اجزاء جسم کا حصہ بناتی ہے کیونکہ اسے پینے کا دورانیہ ایک سیگریٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق عام طور پر اس کا ‘سیشن’ ایک گھنٹے تک ہوسکتا ہے اور اس دورانیے میں لوگ متعدد بار دھواں کھینچتے ہیں جو کہ بہت زیادہ سیگریٹ کے برابر نکوٹین جسم تک پہنچا دیتا ہے۔ اس نکوٹین کے اثرات دل اور شریانوں کے نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس عادت کے نتیجے میں سب سے پہلے تو شریانیں اکڑنا شروع ہوتی ہیں جس کے بعد بتدریج دل کو نقصان پہنچنے لگتا ہے۔ یعنی شریانوں میں زہریلا مواد جمع ہونے لگتا ہے جو کہ آہستہ آہستہ دل کی جانب دوران خون کو محدود کرنے لگتا ہے، جس کے باعث دل کو اپنے کام کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صرف 30 منٹ تک حقہ پینا ہی شریانوں کو اکڑن کا شکار بنانے لگتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…