بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

ڈان لیکس فوج نے نہیں کرائی، فوج نے اس وقت کے حکمرانوں کو چار ماہ تک کیاسمجھایا تھا؟اب حسن اور حسین نوازکے ساتھ کیا ہوگا؟شیخ رشید کے انکشافات، بڑا دعویٰ کردیا

datetime 7  اگست‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)عوامی ملی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ’’نیا پاکستان‘‘ این آر او کی جانب نہیں جائے گا ۔عوام نے کرپشن کے خلاف ہمیں ووٹ دیا ہے ۔نئی حکومت کسی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر عوام کے مفاد میں فیصلے کرے گی ۔ڈان لیکس فوج نے نہیں کرائی ۔ فوج نے اس وقت کے حکمرانوں کو چار ماہ تک سمجھایا کہ اداروں کو آئین کے تحت عزت دی جائے ۔اگر ہم نے ادارے ٹھیک نہیں کیے تو یہ ہماری ناکامی ہو گی۔شاہد خاقان عباسی اور

شہباز شریف کے 200 ارب کے کرپشن کیسز آنے والے ہیں ۔ حسن اور حسین کو انٹر پول کے ذریعہ پاکستان لایا جائے گا۔انتخابات کو صرف اس لیے غیر شفاف نہیں کہا جاسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل نہیں کرپائے ۔ 65فیصد جماعتوں کی قیادت نیب کے کیسز میں مطلوب ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا دل کہتا ہے کہ عمران خان ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اب تک پالیسیاں پیش نہیں کیں اور سیاسی ٹولوں نے مخالفت شروع کر دی ۔ آزادانہ خارجہ پالیسی کو فروغ دیں گے ۔ نیا پاکستان غریب کا پاکستان بنے گا ۔ نئی حکومت کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی ۔ نہ کسی این آر او ملے گا اور نہ سی پیک کا منصوبہ رکے گا ۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کے 200 ارب کے گھپلے کے کیس آنے والے ہیں ۔ حسن اور حسین کو انٹر پول کے ذریعہ پاکستان لایا جائے گا ۔ گذشتہ ادوار میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی پارٹیاں اس وقت جیلوں میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس فوج نے نہیں کرائی ۔ چار ماہ تک فوج نے سمجھایا کہ فوج کو آئین کے تحت عزت دیں ۔اگر ہم نے ادارے ٹھیک نہ کرے تو یہ ہماری ناکامی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تینوں گروپوں کے ساتھ میرے قریبی تعلقات ہیں ۔

کراچی نے عمران خان کو محبت سے نوازا ہے ۔ایم کیو ایم پاکستان نے تحریک انصاف کی حمایت کا فیصلہ کرکے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے ۔اس اتحاد سے کراچی کے حالات میں بہتری آئے گی اور شہر کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر پارٹیوں کے ساتھ صلح صفائی چاہتے ہیں ۔ اگر ہماری پالیسیوں کے خلاف کسی کو کوئی شکایت ہو تو ہم حاضر ہیں ۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ الیکشن کو اس لیے غیر شفاف نہیں کہہ سکتے کہ اس الیکشن میں مولانا فضل الرحمن ہار گئے ۔

مولانا فضل الرحمن جب 25 سالوں سے حکومت کے مزے لے رہے تھے تو عمران خان اس وقت جدوجہد کر رہے تھے ۔ پی ٹی آئی نے ابھی تک کوئی پالیسی پیش نہیں کی لیکن سیاسی ٹولے ابھی سے نئے پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ اپنے دور حکومت میں آزاد خارجہ پالیسی کو فروغ دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کا شور مچانے والے یہ وہی سیاست دان ہیں ، جنہوں نے عمران خان کے چار حلقے کھولنے میں چار سال لگا دیئے ۔ اب یہ پورے پاکستان کے حلقے کھلوانے کی بات کر رہے ہیں ۔

سیاسی پارٹیاں کوئی ایسا حلقہ بتا دیں ، جہاں دو نمبر بیلٹ پیپر پائے گئے ہوں ۔ انتخابات صاف شفاف طریقے سے ہوئے ۔ امن وامان کی صورت حال پوری قوم کے سامنے ہے ۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ کیا امریکا کے انتخابات میں بھی جب ٹرمپ جیتے تو بیلٹ پیپر باہر پائے گئے مگر وہ جعلی پیپر تھے ۔ اسی طرح پاکستان میں جو بیلٹ پیپر ز مختلف مقامات سے مل رہے ہیں

وہ جعلی بیلٹ پیپر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات اس صورت حال میں تبدیل ہوں گے ، جب ٹاپ کے 40 کرپٹ لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا اور ان کو جیل میں ایئر کنڈیشنز اور انٹرنیٹ نہ دیا جائے تو ملک کرپشن سے صاف اور ترقی کی جانب گامزن ہو گا ۔ شیخ رشید نے کہا کہ مجھ پر لوگ ہنستے تھے جب میں اپنے انٹرویوز میں کہتا تھا کہ عمران خان 100 سے زائد نشستیں جیتیں گے۔ عوام نے عمران خان کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ عمران خان عوام کے معیار پر پورا اتریں گے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…