ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

چین میں پھنسے مسافروں کے مسئلے پر چیف جسٹس کا دھماکہ خیز حکم،شاہین ائیر لائن کو فی مسافر کتنی ادائیگی دینے کا کہہ دیا؟جان کر آپ بھی جسٹس ثاقب نثار کو دعائیں دینگے

datetime 7  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں چائنہ میں پھنسے پاکستانی مسافروں کی واپسی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسافروں کو شدید ذہنی تکلیف ہوئی ہے ان کے اخراجات بھی شاہین ائیر لائن کو ادا کرنے ہوں گے ، بتایا جاے مسافروں کو کتنی امدادی رقم دیں گے، منگل کے روز چین میں پھنسے پاکستانی مسافروں کی واپسی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت شاہین ائیر لائن کے سی او عدالت میں پیش ہوے تو چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ماشااللہ بہت انگریزی بولتے ہیں جس پر شاہین ایئر لائن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اردو سمجھ سکتا ہوں بول نہیں سکتا، بدقسمتی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ متاثرین کو کیا ہرجانہ ادا کرینگے، متاثرین کو امداد کی فراہمی تک آپ باہر نہیں جائینگے، شاہین ایئر لائین کے سی ای او کا نام ای سی ایل میں شامل کرینگے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شاہین ایئر لائین اربوں روپے کی ڈیفالٹر ہے، شاہین ایئر لائین نے ایک روپیہ بھی ادا نہیں کیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شاہین ایئر لاین کو فلائٹ آپریشن معطل کرنے کی وارننگ دی گئی تھی، ایئر لائن کو اپنے رویے کی وجہ سے چائنہ والے ایشو کا سامنا کرنا پڑا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسافروں کو شدید ذہنی تکلیف ہوئی ہے ان کے اخراجات بھی شاہین ائیر لائن کو ادا کرنے ہوں گے ، بتایا جائے مسافروں کو کتنی امدادی رقم دیں گے۔ ائیر لائن کے سربراہ نے یقین دہانی کرائی کہ پچاس لاکھ روپے ادا کر سکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تین دن ائیرپورٹ پر بیٹھنا غیر معمول اذیت ہے، مسافر کو ایک ایک لاکھ روپے ادا کرنے چاہیں۔

اس پر شاہین ایئر لائن کے سربراہ نے کہا کہ فنانس ڈپارٹمنٹ سے پوچھ کر بتا سکتا ہوں، ائیر لائن کے وکیل نے کہا کہ مسافروں کے اخراجات شاہین ائیر لائن نے اٹھائے، تو چیف جسٹس بولے کئی مسافروں نے ادھار لیے اور بعض اخراجات سفارتخانے نے بھی کیے، سول ایوی ایشن کیساتھ تنازعات سے تحریری طور پر آگاہ کریں، سربراہ شاہین ایئر لائن کا کہنا تھا کہ آپ سے التجا ہے ایوی ایشن انڈسٹری کا کچھ کریں، چیف جسٹس نے کہا کہ ایوی ایشن کے معاملات دیکھ رہے ہیں، بعد ازاں کیس کی مزید سماعت بیس اگست تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…