بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

مصنوعی انسانی اعضاءبنانے پر تحقیق

datetime 9  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) انسانی جسم میں اعضاءکی پیوند کاری میں گردوں کی تبدیلی کی شرح سب سے زیادہ ہے اور ان کے عطیات بھی اتنی آسانی سے نہیں ملتے۔ تاہم اب سائنسدان مصنوعی اعضاء بنانے پر تحقیق کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں ماہرین اب اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ کس طرح مصنوعی گردے یا مصنوعی جگر تیار کیے جاسکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہارورڈ میڈیکل سکول کی ہے، جہاں ڈاکٹر ہارالڈ اوٹ سات برس قبل ہی اپنی تحقیق کی بدولت عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ڈاکٹر اوٹ نے اپنی لیبارٹری میں ابتدائی طور پر چوہوں کا مصنوعی دل بنایا، جو دھڑکتا بھی تھا۔ آسٹریا میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر ہارالڈ نے دو سال بعد ہی ایک مصنوعی جگر بنانے کی کوششیں شروع کر دیں جس میں کامیابی کے بعد انہوں نے مصنوعی جگر کی پیوندکاری کا پہلا تجربہ بھی چوہوں پر ہی کیا۔ ان کا تخلیق کیا جانے والا جگر دو ہفتوں تک کام کرتا رہا۔ اِس کے تقریباً دو سال بعد وہ یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ مصنوعی گردے کس طرح بنائے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بھی بھی چوہوں پر ہی تجربہ کیا گیا۔ ابتدائی طور پر انہوں نے گردے جیسا ایک عضو تخلیق کیا، جس سے مثانہ اور پیشاب کی نالی بھی جڑی ہوئی تھی۔ پھر اسے ایک بائیو ری ایکٹر میں رکھ کر اس میں خلیے بھی داخل کیے۔ دو ہفتوں بعد ہی یہ باقاعدہ ایک کارآمد گردے میں تبدیل ہو گیا۔ بعد ازاں چوہے میں اس کی پیوند کاری کی گئی اور خون کی نالیوں سے بھی اسے جوڑا گیا۔ یہ تجربہ کامیاب رہا اور گردے نے کام کرنا شروع کر دیا اور یہاں تک کہ اس گردے نے پیشاب بھی خارج کیا۔ تاہم اس مصنوعی گردے کی صلاحیت صرف بیس فیصد تک ہی تھی۔ مگر پیوند کاری کے بعد اس کی صلاحیت صرف پانچ سے دس فیصد تک ہی رہ گئی تھی۔گوکہ مصنوعی گردے کا یہ تجربہ جزوی طور پر ہی کامیاب ہو سکا تاہم متعدد محققین کا خیال ہے کہ صحیح سمت میں یہ پہلا قدم ہے۔ کیونکہ مصنوعی گردے کا سو فیصد کام کرنا لازمی نہیں ہے اور یہ ڈائلیسس کے مریض کو مدد بھی فراہم کر سکتا ہے۔ دوسری جانب مصنوعی دل اور پھیپڑوں کے انسانی خلیوں کے ساتھ تجربے کیے جا چکے ہیں اور اب اسی طرح کا تجربہ گردوں پر بھی کیا جانا چاہیے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بظاہر جسم نے اس پیوند کاری کو بغیر کسی رد عمل کے قبول کر لیا۔ اس طرح مریض کو وہ ادویات بھی نہیں لینی پڑیں گی، جوپیوند کاری کے عام آپریشن کے بعد اسے کھانی پڑتی ہیں۔ مصنوعی اعضاءکی پیوند کاری سے مریض کا مدافعتی نظام بھی متاثر نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…