ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

دنیا کی پانچ عجیب وغریب ترین الرجیز

datetime 9  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) الرجی عام طور پر ایسے ردعمل کو کہتے ہیں جو بیرونی فضا میں موجود کسی بھی عنصر کو جسم قبول نہ کرنے کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں الرجیز کی مختلف اشکال موجود ہیں تاہم ان میں سے کچھ اتنی دلچسپ ہیں کہ ان کے بارے میں تصور بھی محال ہے کہ یہ بھی الرجی کی شکل ہوسکتی ہیں۔ دنیا کی پانچ عجیب وغریب ترین الرجیزکچھ یوں ہیں:
ہر 23ملین لوگوں میں سے کسی ایک شخص کو پانی سے الرجی ہوتی ہے۔جی ہاں یہ ناقابل یقین ہے تاہم اس الرجی کو ایکواجینک یورٹیکاریا کہتے ہیں۔ اس مرض کا شکار لوگ پانی کا کسی بھی شکل میں استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگ پینے کیلئے ڈائٹ کوک استعمال کرتے ہیں جبکہ غسل کیلئے بھی وہ مشکل سے ایک منٹ ہی شاور کے نیچے گزار پاتے ہیں، دوسری صورت میں ان کی جلد پر سرخ دھبے اور چھوٹے چھوٹے سے زخم بن جاتے ہیں۔دوسری دلچسپ الرجی ورزش کرنے سے ہوتی ہے۔ اسے ایکسرسائز انڈیوسڈ اینافلیکسز کہتے ہیں۔ اس مرض کا شکار لوگ معمولی سی مشقت کرنے کی صورت میں شدید ترین تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں، انہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور زیادہ طبیعت خراب ہونے کی صورت میں ان کا بلڈ پریشر اس قدر گرجاتا ہے کہ ان کیلئے مصنوعی سہارے کے بغیر سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔
شدید سردی ہر شخص کو ہی بری لگتی ہے لیکن کچھ لوگوں کیلئے یہ اس قدر ناقابل برداشت ہوتی ہے کہ ان کیلئے موسم سرما میں گھر سے نکلنا ہی مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ سردی میں آتے ہی ان کی جلد پر سرخ دھبے نمودار ہونے لگتے ہیں اور ان کی سانس اکھڑنے لگ جاتی ہے۔ یہ کیفیت صرف سردی تک ہی محدود نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ لوگ برف والا پانی یا حتیٰ کہ کولڈ ڈرنکس بھی استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ اسے کولڈ ارٹیکیریا کہتے ہیں۔ اس کی علامات میں جلد پر سرخ دھبوں کے ساتھ جلد کی سوزش بھی شامل ہے۔ زیادہ شدید نقصان کی صورت میں بلڈ پریشر بے حد گر جاتا ہے، مریض بے ہوش ہوسکتا ہے، حتیٰ کہ اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔کچھ لوگوں کو سیمن سے بھی الرجی ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں اس الرجی کا شکار افراد کی تعداد بیس سے چالیس ہزار کے بیچ ہے۔ اس الرجی کا شکار افراد کی جلد سیمن میں موجود کچھ اجزاءکو قبول نہیں کرتی ہے اور اس کی وجہ سے ان کی جلد پر خارش اور جلن پیدا ہونے لگتی ہے۔اس الرجی کا شکار افراد کیلئے پارٹنر تلاش کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے نیز اگر یہ مردوں میں ہو تو خود ان کیلئے اپنا سیمن بھی برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ایک اور دلچسپ الرجی سورج کی شعاو¿ں سے ہوتی ہے۔ اس الرجی کا شکار افراد سن بلاک استعمال کئے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتے کیونکہ ان کی جلد میں سورج سے نکلنے والی شعاو¿ں کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے، اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی جلد پر جلن، خارش، سرخ دھبے اور دانے نمودار ہونے لگتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…