منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

پچھلے 10 سالوں کے دوران کتنے سیاستدان توہین عدالت کے جرم میں نااہل ہوئے اورانکا تعلق کس کس سیاسی جماعت سے ہے؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 2  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے دو جمہوری ادوار کے دوران جب جب سیاستدانوں پر کڑا وقت آیا تو انہوں نے عدلیہ کے خلاف سخت اور نازیبا زبان بھی استعمال کی جس کی وجہ سے انہیں سزا بھی بھگتنا پڑی۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کے مرتکب قرار پائے۔

سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے 26 اپریل 2012 کو یوسف رضا گیلانی کو آئین کے آرٹیکل 204 (2) کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا سنائی۔عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ نہ صرف وزارت عظمی کے منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ 5 سال کے لیے بھی نااہل ہوئے جس کی وجہ سے وہ 2013 کے انتخابات میں بھی حصہ نہ لے سکے۔اسی طرح مسلم لیگ (ن)کے تین رہنماؤں کو توہین عدالت کے جرم میں سزا بھی ہوئی اور وہ 5 سال کے لیے نااہل بھی ہوئے۔ سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی ایک تقریر پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا جس میں انہیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا تھا۔عدالت عظمی نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جس کے بعد وہ 5 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل بھی قرار پائے۔مسلم لیگ (ن)کے رہنما دانیال عزیز کے ٹی وی ٹاک شو کے دوران عدلیہ مخالف گفتگو کرنے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے 2 فروری 2018 کو از خود نوٹس لیا۔13 مارچ کو دانیال عزیز پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی گئی جس کے بعد 28 جون کو فیصلہ سناتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا۔

عدالت عظمی نے آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت دانیال عزیز کو عدالت کی برخاستگی تک سزا سنائی جس کے بعد وہ 5 برس کے لیے نااہل ہوئے۔طلال چوہدری توہین عدالت کے جرم میں اعلیٰ عدالت سے سزا پانے والے مسلم لیگ (ن)کے تیسرے رہنما ہیں، سپریم کورٹ نے جڑانوالہ جلسے میں ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا۔سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کو آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا سنائی اور ان پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…