اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں 24 فیصد افراد کو ارٹیکیریا لاحق

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)دنیا کی تقریباً ایک فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے اور خواتین مردوں کی نسبت اس سے دوگنا زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔چالیس سالہ کرن کو اب سے چھ سال پہلےشدید خارش کی شکایت ہوئی جس کے دوران ان کی جلد پر سرخ نشانات بن گئے جس سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئیں۔ابتدا میں وہ اسےعام الرجی ہی سمجھیں مگر کچھ ہی عرصے کے بعد یہ دوبارہ ہوئی تو انھیں تشویش ہوئی۔ انھوں نےڈاکٹرسےرجوع کیا اور علاج سے وقتی طور پر آرام بھی آگیا تاہم کچھ ہی ہفتوں یا مہینے بعد جسم کے کسی دوسرے حصے میں وہ ہی کیفیت دوبارہ نمودار ہو جاتی۔کِرن نے جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ میں ایم اے کیا ہے اور وہ ایک کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ اس بیماری سے ان کا کام بری طرح متاثر ہونا شوع ہو گیا اور اکثر تکلیف کی شدت بہت بڑھ جاتی تھی۔کرن کو تقریباً تین سال قبل معلوم ہوا کہ اِنھیں ’ارٹیکیریا‘ ہے۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی سنہ 2007 میں کی جانی والی ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 24 فیصد افراد کو کسی نہ کسی شکل میں ’ارٹیکیریا‘ لاحق ہے، جبکہ دنیا کی تقریباً ایک فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے اور خواتین مردوں کی نسبت اس سے دوگنا زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔انسانی جسم کا سب سےبڑا عضو اس کی جِلد ہوتی ہے اسی لیے جِلدی امراض اکثر زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ پورے جسم پر پھیل سکتے ہیں۔پاکستان میں امراضِ جلد کےکئی ماہرین نےحال ہی میں یکجا ہوکر ارٹیکیریا سےمتعلق عوامی سطح پر شعور بیدار کرنےکی کوشش شروع کی ہے۔یہ بیماری نہیں بلکہ ایک طرح کی خرابی ہے جس میں جلد پر سرخ نشان بنتے ہیں، جلد پھول جاتی ہے اور اس میں شدید خارش ہوتی ہے۔ عام لوگ اسے ’چھپاکی‘ یا ’چھپاکا‘ کہتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…