بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ناشتے میں اس غذا کا استعمال ذیابیطس کا مریض بنانے کیلئے کافی

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)اگر آپ ناشتے میں کارن فلیکس یا سیریل کھانے کے شوقین ہیں تو یہ عادت ذیابیطس کا مریض بنا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت ناشتے میں سیریل کا استعمال بلڈ شوگر کو بہت زیادہ بڑھا دینے کا باعث بنتا ہے۔ اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ صحت مند افراد بھی

اگر ناشتے میں اس غذاء کا انتخاب کرتے ہیں تو خون میں گلوکوز کی سطح دن بھر نمایاں حد تک بڑھی رہتی ہے۔ تحقیق کے دوران صحت مند، پری ڈائیبیٹس اور ذیابیطس کے شکار افراد کا جائزہ 4 سال تک لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اکثر افراد کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ خون میں گلوکوز کی سطح بڑھنا خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس سے قبل رواں سال کے شروع میں سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ذیابیطس کی 5 اقسام لوگوں کو نشانہ بناسکتی ہیں۔ اس وقت ذیابیطس کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، ذیابیطس ٹائپ ون اور ذیابیطس ٹائپ ٹو۔ ٹائپ ون میں جسم میں انسولین نہیں بن پاتا جو کہ بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو میں جسم انسولین کچھ مقدار میں تو بناتا ہے مگر وہ ناکافی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز برقرار رہتی ہے۔ ٹائپ 2 کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ موٹاپے، بینائی کی محرومی، گردوں کے امراض، امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ سنگین کیسز میں اعضا بھی کاٹنے پڑتے ہیں۔ یہ کافی عرصے سے طبی ماہرین جانتے تھے کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی مختلف اقسام ہوسکتی ہیں مگر دہائیوں سے اس کی درجہ بندی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس نئی تحقیق کے دوران تیرہ ہزار سے زائد ذیابیطس کے حال ہی میں شکار ہونے والے افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی عمریں 18 سے 97 سال کے درمیان تھیں۔

انسولین کی مزاحمت، انسولین کا اخراج، بلڈ شوگر لیول، عمر اور ذیابیطس کی بیماری خود، اس مرض کی پانچ اقسام کو جنم دیتی ہیں، جن میں تین سنگین اور دو درمیانے درجے کی ہوتی ہیں۔ سنگین اقسام میں انسولین کی مزاحمت (اس کے دوران خلیات انسولین کو موثر طریقے سے استعمال نہیں کرپاتے) کے مریضوں میں گردوں کے امراض کا بہت زیادہ خطرہ پایا گیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مریضوں کا علاج درست

طور پر نہیں ہوپاتا کیونکہ ڈاکٹر روایتی علاج تک ہی محدود رہتے ہیں۔ ایک اور گروپ جنہیں سنگین پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے، وہ انسولین کی کمی کے شکار مریض ہیں اور یہ عام طور پر درمیانی عمر کے افراد کو لاحق ہونے والا مرض ہے۔ اسی طرح تیسری قسم آٹو امیون ذیابیطس کے شکار افراد کی ہیں جنھیں اس وقت ٹائپ ون کا مریض سمجھا جاتا ہے۔ دیگر دو اقسام اس وقت چالیس فیصد مریضوں کو اپنا شکار بناتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…