جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں سرکاری سرپرستی میں ریپ ہونے لگے ایک اور بڑا جنسی سکینڈل منظر عام پر آگیا، تین درجن سے زائد لڑکیوں کے جنسی استحصال میں کون کون شامل نکلا؟

datetime 29  جولائی  2018 |

مظفر پور (این این آئی)بھارتی ریاست بہار کے ایک حکومتی شیلٹر ہاؤس میں کئی کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیاتی کی گئی ہے۔ اس خبر کے بعد ریاستی حکومت نے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کی مشرقی ریاست بہار کے شہر مظفرپور میں قائم محفوظ شیلٹر ہاؤس میں کم از کم چونتیس ایسی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے،

جن کی عمریں سات برس سے اٹھارہ برس کے درمیان ہیں۔ یہ شیلٹر سرکاری نگرانی میں خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ لڑکیوں کو ایک اور مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے جنسی استحصال کی شکار ہونے والی تقریباً تین درجن کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کی ابتدائی میڈکل رپورٹ حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اور نشاندہی پر کم از کم دس مردوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں ایک غیرسرکاری تنظیم کا سربراہ بھی ہے، جو اس شیلٹر کے لیے امدادی سامان اور رقوم فراہم کرتا تھا۔ریاستی پولیس کی سینیئر خاتون افسر ہرپریت کور نے مقامی معروف غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ کور کے مطابق تفتیشی عمل جاری ہے اور گرفتاریوں کا دائرہ وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ خاتون پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ متاثرہ لڑکیوں کے مقام کو تبدیل کر کے اْن کی بہتر انداز میں نگرانی کی جا رہی ہے۔پولیس نے جنسی استحصال کی شکار ہونے والی تقریباً تین درجن کمسن اور ٹین ایجر لڑکیوں کی ابتدائی میڈکل رپورٹ حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اور نشاندہی پر کم از کم دس مردوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان گرفتار ہونے والوں میں ایک غیرسرکاری تنظیم کا سربراہ بھی ہے، جو اس شیلٹر کے لیے امدادی سامان اور رقوم فراہم کرتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…