اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

غذا ئیت کا کرشمہ:آلو بخارا موسم گر ما کی سو غا توں میں سے ایک اہم پھل ہے

datetime 29  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)غذا ئیت کا کرشمہ یہ موسم گر ما کی سو غا توں میں سے ایک اہم پھل ہے۔ جہا ں آ م گر میوں کی سو غات ہیں و ہیں آلو بخارے کو کچھ اہمیت دینی چا ہئے ۔گر میوں کا مو سم طو یل ہوتا ہے بر سات کے شروع ہونے تک جلدی بیماریاں اور گر میوں کے بخار جیسی تکا لیف سے بچنے کے لئے غذائیوں کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے غذا ئیت کا کرشمہ یہ موسم گر ما کی سو غا توں میں سے ایک اہم پھل ہے ۔

جہا ں آ م گر میوں کی سو غات ہیں و ہیں آلو بخارے کو کچھ اہمیت دینی چا ہئے ۔گر میوں کا مو سم طو یل ہوتا ہے بر سات کے شروع ہونے تک جلدی بیماریاں اور گر میوں کے بخار جیسی تکا لیف سے بچنے کے لئے غذائیوں کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے ۔خشک آلو بخارے ہوں یا تازہ دونوں بے حد مفید ہیں ۔ سر د تا ثیر رکھنے والا یہ پھل تر ش ہوتا ہے اور بہتر ین سڑک ایسڈ پر مشتمل بھی ، پختہ ہو کر اس کا رنگ سیا ہی مائل جامنی ہوتا ہے تو یہ میٹھا ہوتا چلا جاتا ہے آلو بخارا کشمیر ،ہمالیہ ،پاکستان ،افغانستان اور ایران میں بکثر ت پاتا جاتاہے اپنے اصلی مسکن د مشق سے سفر کر تا ہوا یہ مشر قی و سطیٰ تک کا شت ہو نے لگا ہے ۔ یہ جگر کے لئے اکسیر پھل ہے جگر کی گر می مکمل انسانی صحت پر اثر انداز ہو تی ہے ۔اگر جگر تو انا نہ ہو تو چھی غذا اور موٴثر ترین ادویات بھی غیر موٴ ثر ہوتی چلی جاتی ہے ۔آلو بخا رے کا شربت ہو یا تازہ پھل کی حالت میں ، کسی طرح بھی استعمال کیا جائے ،جگر کی تقویت کا باعث ہوتاہے ۔ آلو بخارے کے پتے میں بھی شفاء رکھی گئی ہے ۔بہت کم لوگ واقف ہیں کہ مسوڑ ھوں کو مضبوط بنانے اور دانت نکالنے والے بچوں کو پیش آنے والے مسائل سے چھٹکارے کے لئے اس پھل کے پتوں کا سفوف بہترین دوا ہے ،با لغ افراد تو پتوں کو چبا بھی سکتے ہیں ۔ ترش آلو بخارے کے بغیر بر یا نی لطف نہیں دیتی ۔بر یا نی نمکین غذا ہے لیکن ترش آلو بخارے کی وجہ سے کیسی چٹ پٹی ہو جاتی ہے اصل میں یہ ہاضم ہے اور مصالحہ جات اور چاولوں کے بادی پن اور ثقیل ہونے کا بہترین توڑ بھی ہے ۔ یہ ذیا بیطس میں بھی مفید ہے ۔ آلو بخار ابلڈ پر یشر کے مریضوں کو کھا نا چاہئے چاہے بلڈ پریشر ہائی ہویا کم ، دونوں میں مفید ہے ۔ متلی اور قے کی صورت میں بھی تھوڑا سا چاٹ لیاجائے تو افاقہ ہوتا ہے ۔گر می کے سر درد میں بھی کمی کر تا ہے ۔

خون کی گرمی زائل کرتا ہے ۔ زخم جلدی مند مل کر تا ہے ۔ آنتوں کے کیڑوں کے لئے بھی تر یاق ہے گر می کے زکام میںآ لو بخارے کے پتوں کو جو شاندہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ آلو بخارے کا شربت اور مربہ بھی بنایا جاتا ہے ۔ نیند کی کمی کا مرض اس کے استعمال سے رفتہ رفتہ کم ہونے لگتا ہے ۔پتے کی پتھریوں کو روکنے کے لئے بھی اس کا استعمال مفید ہو تا ہے ۔ جلدی بیماریاں میں آلو بخا رے کا ساتھ سا تھ

شر بت عنا ب کا استعمال بہت اہمیت ر کھتا ہے ۔ یوں تو آج کل بے مو سمی پھل سبز یاں بھی د ستیاب ہو نے لگے ہیں لیکن کو شش ضرور کیجئے کہ آلو بخا رے کو اس اصل مو سم میں ہی استعمال کیا جا ئے و گر نہ خشک آلو بخا رے استعمال کر نا زیادہ مفید ہے ۔ آلو بخا رے کی چٹنی کشمش اور چھوہارے شا مل کر کے بنا ئی جا ئے تو اعصابی صحت بر قرار ر ہتی ہے ۔ جبکہ اس کا شر بت بھوک کی کمی، یر کان ،کمزور بینائی، ابھا رہ اور معدے کے درد میں افاقہ دیتا ہے ۔

تا ہم اسہال اور پیچش کے مر یض نہ استعمال کر یں تو بہترہے ۔ چند دیگر طبی حقائق اس پھل میں Ferula Acidوا فر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔یہ عنصر معدے اور آنتو ں کے کینسر کے خلاف جسم کی حفاظت کر تا ہے ۔ ایس طرح آلو بخارے Tanineایسا معدنی ذرے پر مشتمل ہے جو مثا نے کے جرا ثیم مارنے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے ۔ علاوہ ازیں وٹامن C،E، آئرن اور پو ٹا شیم بکثرت پائے جاتے ہیں ۔100گرام آلو بخارے 19املی گرام پوٹا شیم اور 3گرام غذائی فائنر پر مشتمل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…