اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی تھیلیسیمیا دن منایا جارہا ہے

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج خون کی کمی کا شکار بچوں کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا دن منایا جارہا ہے اور خیبر پختو نخوا کے کسی بڑے ہسپتال میں ان مریضوں کے لئے کوئی وارڈ مختص ہوسکا ہے اور نہ ہی اس کی روک تھام کے لئے قانون بن سکا۔ خون کی کمی یعنی تھیلیسیمیاکا شکار مریضوں کے جسم میں پیدائشی طور پر خون نہیں بنتا، پاکستان میں بھی اس مرض کی بڑی وجوہات میں خاندان کے اندر کی شادیاں ہیں، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو پھر والدین ساری زندگی خون دلوانے کے لئے ان بلڈ ٹرانسفیوڑن سنٹرز لاتے ہیں اور اس کرب سے گذرتے ہیں اور یہ ہے اس صوبے کی اسمبلی جس میں موجودہ دور میں تحریک انصاف کی اکثریت ہے اوراسی لئے حکومت بھی ان کے پاس ہے وہ بھی صحت کے میدان میں بہتری کے وعدے کرکے حکومت میں ا?ئے تھے، تاہم اس دورمیں بھی کسی بڑے اہسپتال میں اس بیماری کے علاج کے لئے کوئی وارڈ نہیں بن سکا۔ ان اسمبلیوں میں بیٹھے یہ عوامی نمائندے اس بات سے باخبر ہیں کہ خیبر پختو نخوا میں 2013میں تھیلیسیمیا کے شکار مریضوں کی تعداد بڑھ کر 8000ہوچکی ہے۔ پاکستان میں سالانہ ایسے سینکڑوں بچے پیدا ہوتے ہیں، جن میں تھیلیسیمیا کی بیماری ان کے ساتھ جنم لیتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگراسمبلیوں میں قانون سازی کی جائے توان بچوں کوتھیلی سیمیا جیسے مہلک مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…