ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

کوئٹہ دھماکوں سے گونج اٹھا

datetime 25  جولائی  2018 |

کوئٹہ (آن لائن) بدھ کے روز انتخابات کے اہم موقع پر کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس پر ڈی آئی جی پولیس کے قافلے پرخود کش حملہ آور نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں5پولیس اہلکاروں اور ایس ایچ او سمیت 31افراد شہید اور 30سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کیلئے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں منتقل کیا گیا تو وہاں پر موجود ڈاکٹروں نے 8افراد کی حالت کو تشویشناک قرار دے دیا۔

زخمیوں میں متعدد پولیس اہلکار اور راہگیر شامل ہیں۔ واقعہ کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو حفاظتی حصار میں لے لیا ۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق دھماکہ خود کش تھا جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے بھی موقع پر سے شواہد جمع کیے ۔دوسری جانب آئی جی عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ دھماکا پولیس موبائل کے قریب ہوا،دھماکے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔بظاہرا یسامعلوم ہوتا ہے کہ پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ادھر سول ہسپتال ذرائع نے31افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، صورت حال کے پیش نظر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ اسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کیلئے لوگوں سے خون دینے کی اپیل کی ہے۔صدر مملکت ممنون حسین، نگراں وزیر اعظم ناصر الملک ،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو سمیت آصف زرداری اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماوں نے کوئٹہ دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اس حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ انتخابات کے دن دہشتگرد دھماکے ملک اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ قوم آج دہشتگردی کے خلاف اپنا فیصلہ ووٹ کی طاقت سے دے گی ۔بلاول بھٹو زرداری نے شہدا کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…