منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

غیرملکی اثاثے ظاہر کرنے میں بڑی رکاوٹ سامنے آگئی،یہ رکاوٹ ختم ہو جائے تو جانتے ہیں کتنے ارب ڈالر ز کا پتہ چل جائیگا؟حیران کن انکشاف

datetime 22  جولائی  2018 |

کراچی(سی پی پی) ٹیکس ایمنسٹی کو کامیابی سے ہمکنارکرنے کیلئے تجارتی و صنعتی شعبوں نے بیرون ملک اثاثے اور نقدی ظاہر کرنے کیلئے فارن کرنسی اکاؤنٹ کی شرط کو ختم کرکے مجازایکس چینج کمپنی کے توسط سے براہ راست ٹیکس کی رقم کی ترسیل پر ایمنسٹی دینے کی تجویز دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں فوری طورپر 50 ارب ڈالرکے غیرملکی اثاثے ظاہرکردیے جائیں گے۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے نمائندے شعبان الہی کا کہنا تھا کہ جن پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں ان میں 90 فیصد پاکستانیوں کے بینک کھاتے نہیں ہیں اور وہ متعارف کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے استفادے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مقامی غیرظاہر شدہ اثاثوں پر ایمنسٹی اسکیم سے متعلق پیچیدگیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں لوگوں کے پاس جائیدادیں ہیں لیکن ان کے پاس ایمنسٹی اسکیم کے تحت جائیدادوں پر لگنے والے ٹیکس کی مطلوبہ نقد رقم دستیاب نہیں، اگر انہیں اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے بعد ٹیکس کی ادائیگیوں کیلیے 6 ماہ یا ایک سال کے دوران اقساط میں ادائیگیوں کی سہولت دی جائے تو اسکیم سے استفادے کے حجم میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔دوسری جانب کمشنر آرٹی او مقصود جہانگیرنے کہاکہ متعارف کردہ ٹیکس ایمنسٹی سے استفادہ کرنے والوں کو بیرون ملک بھی تحفظ حاصل ہوسکے گا، اندرون ملک اور بیرون ملک غیر ظاہرشدہ اثاثوں سے متعلق ایف بی آرتمام معلومات سے آگاہ ہے لہذا مستقبل میں ٹیکس مسائل اور پریشانیوں سے بچنے کیلیے اسکیم سے ترجیحی بنیادوں پراستفادہ کیا جائے، ایف بی آر میں آٹو میٹک ایکس چینج آف انفارمیشن سیل قائم ہوگیا ہے جس کے توسط سے دنیا بھر میں پاکستانیوں کے اثاثوں سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ پہلی منفرد ایمنسٹی اسکیم پارلیمنٹ کی منظوری اور عدالت عظمی کے تحفظ کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہے۔

ادھر ایمنسٹی اسکیم ٹاسک فورس کراچی حیدرآباد کے سربراہ شفقت حسین نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم سے متعلق تاجربرادری کی موصول ہونے والی شکایات اور مسائل کے بارے میں فوری طور پر وفاقی وزارت خزانہ کو آگاہ کیا جارہا ہے، فی الوقت ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں مزید توسیع پرغورنہیں کیا جا رہا۔ کمشنرایل ٹی یو فیصل رؤف نے کہا کہ اس منفرد ایمنسٹی اسکیم میں

غیرظاہر شدہ اثاثے اور آمدنی ظاہر کرنے والوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے لہذا تجارتی وصنعتی شعبہ بلاخوف وخطر اپنے خفیہ اثاثے5 فیصد ٹیکس کے عوض ظاہر کر دیں کیونکہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد نشاندہی پر انہیں کئی گنا زائد ٹیکسوں کی ادائیگیوں کے عوض اپنے اثاثوں اور دھن کو قانونی بنانا پڑے گا۔ اجلاس میں کمشنر آئی آر سیدین رضا بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…