ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف کو جیل سے احتساب عدالت تک پیشی پر لانا نگران حکومت اور سیکیورٹی اداروں کیلئے چیلنج بن گیا،حیرت انگیز فیصلہ کرلیاگیا

datetime 21  جولائی  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) میاں نواز شریف کو جیل سے احتساب عدالت تک پیشی پر لانا نگران حکومت اور سیکیورٹی اداروں کیلئے چیلنج بن گیا‘ نگران حکومت نے اپنی جان چھڑانے کیلئے نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی سماعت انتخابات کے بعد رکھوائی‘ 30 جولائی کو نگران حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے اور آنیوالی حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی کہ

وہ سابق وزیراعظم کو کس طرح سیکیورٹی دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت تک پیشی پر لانا نگران حکوتم اور ایک اہم ادارے نے اپنے لئے درد سر قرار دیا۔ ایک اہم شخصیت نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ ریفرنسز کی سماعت کی تاریخ آگے لے جانے کے پیچھے یہی منطق ہے کہ میاں نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت جب پیشی پر لایا جائے تو خدانخواستہ کوئی ناشگوار واقعہ ہوجائے تو نگران حکومت کے ساتھ ساتھ نیب ب بھی پھنس سکتی ہے۔ گرفتاری سے قبل نواز شریف اپنی ذمہ داری پر عدالت میں پیش ہوتے تھے اس لئے تمام سیکیورٹی اداروں کی سر دردی نہیں تھی۔ ان کی گرفتاری اب ریاست کیلئے درد سر بن گئی ہے اس لئے ریاست چاہتی ہے کہ نئی حکومت بننے تک کسی بھی قسم کا کوئی رسک نہ لیا جائے۔ احتساب عدالت میں اس وقت نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت ہورہی ہے گرفتاری کے بعد نگران حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہی ہوگی جو آئین اور قانون کے خلاف تھا تاہم احتساب عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ جب 30 جولائی دی تو نگران حکومت نے سکھ کا سانس لیا اور نوٹیفکیشن واپس لیا۔

نگران حکومت کی مدت 30 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ 30 جولائی کے بعد نئی حکومت بن جائے گی اور نواز شریف کی سیکیورٹی کی ذمہ دار وہ ہوگی ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف عدلاتوں سے جو فیصلہ آیا ہے وہ کمزور بنیادوں پر ہوا ہے ممکن ہے انتخابات کے بعد نواز شریف کی ضمانت ہوجائے گی۔ )

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…