ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

اکثریت نہ ملنے کی صورت میں پیپلز پارٹی یا (ن) لیگ سے اتحاد ،عمران خان نے حیرت انگیز اعلان کردیا

datetime 20  جولائی  2018 |

لاہور( این این آئی ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں انتخابات کے نتیجے میں اگر معلق پارلیمان بنتی ہے تو یہ ملک کے لیے بڑی بدقسمتی ہو گی،اکثریت نہ ملنے کی صورت میں پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے کی بجائے پر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹر ویو میں عمران خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو جس طرح کے معاشی بحران اور مشکلات کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے طاقتور حکومت کی ضرورت ہے جو بڑے فیصلے کر سکے اور معلق پارلیمان ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔عمران خان نے ممکنہ مخلوط حکومت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے کی بجائے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔اگر اتحاد بنانا پڑا تو نہ (ن) لیگ سے بنے گا اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے کیونکہ ان کے رہنما کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اگر ان کے ساتھ حکومت بنانی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھیں۔عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ اصلاحات ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اداروں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے، بدعنوانی کے خلاف مہم نہیں چلائی جا سکتی اور ایف بی آر کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ انہی لوگوں نے اداروں کو کرپشن کرنے کے لیے تباہ کیا ہے۔پی ٹی آئی کی کوشش ہو گی کہ ان جماعتوں کے بغیر حکومت بنے اور اگر نہیں بنتی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ایک سوال یک جواب میں عمران خان نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں جو دھاندلی کے بارے میں بات کی تو سب جماعتوں نے ان کی مخالفت کی کیونکہ ان سب نے مل کر دھاندلی کی تھی۔

اس وقت کہا تھا کہ چار حلقوں کو تحقیقات کے لیے کھولا جائے تاکہ 2018 کے انتخابات ٹھیک ہوں لیکن میری مخالفت کی گئی اور میں اکیلا سڑکوں پر تھا اور اب دیکھیں یہ ہی جماعتیں الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔انہوں نیکہ میں ان سے سوال پوچھتا ہوں کہ جب میں کہہ رہا تھا تو تب ہی تحقیقات کر کے ایسا قانون پاس کرتے کہ یہ پچھلی غلطیاں ہوئی ہیں اور اب یہ نہیں ہونی چاہئیں۔اب ان کو ڈر ہے کہ یہ انتخابات ہارنے جا رہے ہیں

اور ان کو یہ بھی ڈر ہے کہ امپائر ان کے اپنے نہیں ہیں کیونکہ گزشتہ انتخابات میں انہوں نے اپنے امپائر کے ساتھ میچ کھیلا تھا۔ اس وقت نگران حکومت، الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔عمران خان نے حکومت میں آنے کی صورت میں اپنی اولین ترجیحات کے بارے میں بتایا کہ اولین ترجیح ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنا ہو گا۔حالیہ دنوں انتخابات کے حوالے سے خدشات بارے اپنے بیان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے انہیں خدشات لاحق ہیں اور اس سے صرف تحریک انصاف کی انتخابی مہم متاثر ہو رہی ہے کیونکہ دیگر جماعتیں چار دیواری میں مہم چلا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…