جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’کہیں نہ کہیں کچھ تو ہو رہا ہے‘‘ چیف جسٹس نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کیخلاف کیس میں دھماکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 5  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اس کا جواز دینا ہوگا، اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو ٹیکس ایڈجسٹ کریں عوام پر بوجھ نہ ڈالیں، لوگ یہ بوجھ اٹھا نہیں سکیں گے،جب سب چیزیں بڑھا دی جائیں تو لوگوں پر بوجھ آنا ہی ہے۔

پانچ روپے دے کر سفر کرنے والے سے 10 روپے لیں گے تو پہلے وہ اپنے پیٹ پر کٹ لگائے گا اور بچوں کی فیسوں پر اور پھر اپنی خوشیوں پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پیٹرول کی قیمت پھر ساڑھے 7 روپے بڑھا دی گئی جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور روپے کی قیمت میں کمی کے سبب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیل پرائس اور لینڈڈ پرائس میں بہت فرق ہے جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے، کبھی سیلز ٹیکس بڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسٹم ڈیوٹی، یہ کس بات کی ہیں، ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہرین کی رائے چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ تین مہینے کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بریک اپ دیں جس پر انہوں نے کہا کہ یہ پی ایس او والے ہی بتاسکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو ٹیکس ایڈجسٹ کریں عوام پر بوجھ نہ ڈالیں، لوگ یہ بوجھ اٹھا نہیں سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…