پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

بے خوابی کے شکارافراد کے لیے نئی پیشکش جو صرف 60سیکنڈ میں سوئیں

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو زڈیسک ) دنیا کی بڑی آبادی بے خوابی کی شکار ہے اور ایسے افراد رات بھر کر کروٹیں بدلنے کے بجائے نشہ آور ادویات لینے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ وہ چین کی نیند سو سکیں تاہم ماہرین نے ان دواو¿ں کو جسم کے تمام عضو کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور ان کے لیے ایک ایسا طریقہ متعارف کرادیا ہے جس سے وہ صرف ایک منٹ میں نیند کی آغوش میں جاسکتے ہیں۔امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے متعارف کرائے گئے طریقے سے کوئی بھی شخص صرف 60 سیکنڈ میں نیند کی آغوش میں جاسکتا ہے اور اس کے لیے کسی نسخے اور دواو¿ں کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ سائنسدانوں کی جانب سے اس طریقے کو 4، 7 اور 8 سانس کی مشقیں کہا گیا ہے جسے انسان کے اعصابی نظام کے لیے قدرتی سکون آور دوا کہا جارہا ہے جب کہ ان مشقوں کے لیے کسی قسم کے سامان کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔سائنسدانوں کےمطابق ان مشقوں کے لیے سب سے پہلے طریقے میں منہ کے ذریعے پوری سانس ایک زوردار آواز کے ساتھ خارج کریں، دوسرے مرحلے میں منہ بند کرکے ناک کے ذریعے دھیرے دھیرے سانس لیں اور ذہن میں چار تک گنتی گنتے ہوئے سانس لیتے رہیں اس کے بعد سانس روک کر رکھیں اور 7 تک گنتی گنیں اور یہ مدت پوری کرنے کے بعد منہ کے ذریعے پوری سانس خارج کردیں اور دوبارہ وہی تیز آواز نکالیے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں خیال رہے کہ ناک کے ذریعے آہستہ سے سانس لیں اور منہ کے ذریعے زوردار آواز کے ساتھ سانس باہر خارج کریں جب کہ اس پورے عمل میں زبان کی نوک ایک ہی پوزیشن میں رکھیں اور اس عمل کو 3 مرتبہ دوہرائیں۔ماہرین کے مطابق یہ طریقہ قدیم ہندی تکنیک ”پرانایاما“ سے لیا گیا ہے جو قابل عمل ہے اس عمل سے پھیپھڑوں میں آکسیجن اچھی طرح بھر جاتی ہے جو آپ کے اندر سکون کو بڑھاتی ہے اور آپ کے اعصاب کو آرام دے کر نیند لاتی ہے۔ ماہرین کے نزدیک اس عمل سے چند ہفتوں بعد لوگ اس کے ماہر ہوجاتے ہیں اور ایک منٹ میں بھی نیند لاسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…