جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں فوری طور پر 2 بڑے ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق ہوگیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے قوم کو بڑی خوشخبری سنادی، حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قرض معافی سے واپس ملنے والی رقم سے ڈیم تعمیر کررہے ہیں، ملک میں فوری طور پر 2 ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق ہوگیا ہے، ہمارے ریکارڈ کے مطابق قرض معافی سے 54 ارب کی جو رقم ریکور ہورہی ہے، چند کمپنیوں نے معاف کرائی گئی75فیصد رقم پرآمادگی ظاہر کر دی،بینکنگ کورٹ کے فیصلے تک معاف کرائی گئی رقم عدالت میں جمع کرانا ہوگی۔

ہفتہ کو سپریم کورٹ میں بینکوں سے 54ارب روپے قرض معافی کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی ڈیمز کیماہرین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز سے جو میٹنگ ہوئی تھی اس کے بعد ملک میں فوری طور پر دو ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ کے مطابق قرض معافی سے 54 ارب کی جو رقم ریکور ہورہی ہے اس سے ہم ان ڈیموں کی تعمیر کریں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بینک والے تو یہ پیسہ بھول چکے تھے، چند کمپنیوں نے 75 فیصد رقم کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو رقم دینا نہیں چاہتے ان کے کیسز بینک عدالتوں کو بھجوائیں گے اور تمام کمپنیوں، متعلقہ افراد کی جائیدادیں ان کیسز سے منسلک کریں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بینکنگ کورٹ کے فیصلے تک معاف کرائی گئی رقم عدالت میں جمع کرانا ہوگی۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قرض معافی سے واپس ملنے والی رقم سے ڈیم تعمیر کررہے ہیں، ملک میں فوری طور پر 2 ڈیمز کی تعمیر پر اتفاق ہوگیا ہے، ہمارے ریکارڈ کے مطابق قرض معافی سے 54 ارب کی جو رقم ریکور ہورہی ہے، چند کمپنیوں نے معاف کرائی گئی75فیصد رقم پرآمادگی ظاہر کر دی،بینکنگ کورٹ کے فیصلے تک معاف کرائی گئی رقم عدالت میں جمع کرانا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…