منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

شریف برادران کا کارِ خاص پولیس آفیسر جس نے ماڈل ٹاؤن کیس میں کلین چٹ دی، اس افسر کو اب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کیوں لگایا گیا ہے؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  جون‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے کہ رانا شہزاد اکبر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پی ایس او رہے اور اسی رانا شہزاد اکبر نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بننے والی پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر توقیر شاہ کو کلین چٹ جاری کی،

اسی رانا شہزاد اکبر کو لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز تعینات کر دیا گیا، یہ تقرری الیکشن کمیشن کے شفاف دعوؤں کی بھی نفی ہے، خط پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے لکھا ہے۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے درپردہ ایک کردار رانا شہباز اکبر بھی ہیں، ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کے سانحہ کے حوالے سے نواز شریف، شہباز شریف کو کلین چٹ جاری کر کے انہوں نے انصاف کاقتل عام کیا، ایسے پولیس افسر کا لاہور میں تعینات ہونا لمحہ فکریہ ہے، خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ رانا شہزاد اکبر کی تقرری کانگران وزیراعلیٰ پنجاب بھی نوٹس لیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں چل رہا ہے، ایسے موقع پر ایک متنازع شخص کا اہم عہدے پر فائز ہونا کسی طور بھی درست نہیں ہے، انہیں فارغ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب سے کہتے ہیں کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث جملہ پولیس افسران کو عہدوں سے الگ کر دیں، 14 شہریوں کے قتل عام کے ملزمان کا عہدوں پر برقرار رہنا فیئر ٹرائل کے آئینی تقاضوں کے نفی ہے۔عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس متنازعہ تقرری پر پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو بھی نوٹس لینا چاہیے اور اپنا شدید ردعمل دینا چاہیے۔حیرت ہے شریف برادران کے کار خاص کو لاہور میں تعینات کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…