منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وہ پاکستانی جس نے ایمنسٹی سکیم میں 130 ارب روپے کی دولت ڈکلیئر کر دی ،جانتے ہیں یہ نامور پاکستانی شخصیت کون ہے ؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 29  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں ایمنسٹی سکیم کا اعلان ہونے کے بعد بیرون ملک جائیداد اور اثاثے ظاہر کئے جانے کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے اور ٹیکس کی مد میں پاکستان کے قومی خزانے میں چند ہی دنوں میں اربوں روپے جمع ہو چکے ہیں۔ اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والے پاکستانی حکومت کی جانب سے انتہائی معقول رقم ٹیکس مد میں جمع کروا کر اپنی

بیرون ملک دولت اور اثاثوں کو قانونی شکل دے رہے ہیں۔ ایسے میں ہی خبر ہے کہ بڑی کاروباری شخصیت حبیب اللہ خان نے اس ایمنسٹی سکیم سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک سے باہر اپنے 130ارب روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔ حبیب اللہ خان کا شمار دنیا کی چند نامور کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں بھی ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے ۔ حبیب اللہ خان میگا کونگلومیریٹ ، میگا اینڈ فوربز گروپ آف کمپنیز کے بانی اور چیئرمین ہیں ، اس کمپنی کا کاروباروسیع پیمانے پر ہر شعبے میں پھیلا ہواہے جن میں کنٹینر ٹرمینل ، ملک کا سب سے بڑا شپنگ کا کاروبار ، ڈیری ایشیا ءاور سیمنٹ کی کمپنی شامل ہے ۔ حبیب اللہ ملک کی انتہائی کامیاب رئیل سٹیٹ کمپنی ” ایل ای ای ڈی “ کے بھی مالک ہیں۔ حبیب اللہ کا شمار ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو دنیا میں کمپیوٹرانجینئر بننے والے پہلے بیج میں شامل تھے۔حبیب اللہ خان کے والد اسد اللہ خان وہ پہلے گیس انجینئر تھے جنہوں نے سوئی کے مقام پر گیس انفراسٹرکچر کو تیار کرنے میںمدد کے ساتھ تعاون فراہم کیا۔ 1972میں حبیب اللہ خان نے والد کے بیرون ملک شفٹ ہوجانے پر انگلینڈ کے بورڈنگ سکول میں داخلہ لیا اور ایمپریل کالج لندن میں تعلیم حاصل کی۔انہوں نے یونیورسٹی آف سینٹیاگو میں کولمبیا کی سیٹیلائٹ پر بطور کمپیوٹر انجینئر کام کیا بعد وہ برکیلے میں ا ڈسٹریل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے چلے گئے جس کے بعد وہ پاکستان واپس آ گئے ۔حبیب اللہ نے پاکستان میں سب سے پہلے سافٹ فیئر بنانے سے اپنے کاروبار کاآغاز کیا لیکن پھر انہوں نے اپنے قدم ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جمائے جس کے بعد 1985 میں شپنگ کا کاروبار شروع کیا ، 2000 میں ان کی کمپنی نے قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل حاصل کر لیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…