جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

زیادہ صنعت کار‘ تاجر‘ بیورو کریٹس‘ جنرلز اور پریشر گروپس سمیت یورپ‘ امریکا اوراسلامی دنیا کے بااثر حکمران بھی اردگان کے خلاف ہیں لیکن وہ پھر بھی پانچویں بار کیوں منتخب ہوگئے؟ضعیم قادری اور ولید اقبال کی بغاوت کا ن لیگ اور تحریک انصاف پر کیا اثر پڑے گا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 25  جون‬‮  2018 |

طیب اردگان کل 53فیصد ووٹ لے کر دوسری بار ترکی کے صدر منتخب ہو گئے‘ یہ دنیا کی تاریخ کی پہلی شخصیت ہیں جو مسلسل تین بار وزیراعظم اور دو بار صدر منتخب ہوئے‘ ان کے خلاف جولائی 2016ء میں فوجی بغاوت بھی ہوئی لیکن عوام نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر وہ بغاوت ناکام بنا دی‘ اس وقت بھی ترکی کے زیادہ صنعت کار‘ تاجر‘ بیورو کریٹس‘ جنرلز اور پریشر گروپس اردگان کے خلاف ہیں‘

یورپ‘ امریکا اور اسلامی دنیا کے بااثر حکمران بھی ان کے ساتھ خوش نہیں ہیں لیکن یہ اس کے باوجود مسلسل منتخب ہوتے چلے جا رہے ہیں‘ کیوں؟ دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ پرفارمنس ہے‘ طیب اردگان نے 15برسوں میں ملک اور عوام دونوں کی حالت بدل دی‘ انہوں نے یورپ کے مرد بیمار کو مرد صحت مند بنا دیا‘ دوسری وجہ ‘ترکی ایک مذہبی ملک ہے‘ اسلام خون کی طرح لوگوں کی رگوں میں دوڑتا ہے اور اردگان ایک سچے مسلمان ہیں چنانچہ عوام ان کے پیچھے کھڑے ہیں اور یہ حقیقت ہے جب عوام کسی لیڈر کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں تو پھر خواہ امریکاسمیت ساری فوج‘ بیورو کریسی اور جوڈیشری اس کے خلاف ہو جائے تو بھی دنیا کی کوئی طاقت اسے عوام کی خدمت سے نہیں روک سکتی‘ طیب اردگان میاں نواز شریف‘ آصف علی زرداری اور عمران خان تینوں کیلئے روشن مثال ہیں‘ یہ انہیں بتا رہے ہیں آپ اپنی زندگی عوام کیلئے وقف کر دیں‘ عوام اپنی جان تک آپ پر نچھاور کر دیں گے‘ دوسرا اگر عوام آپ کے ساتھ ہیں تو پھر آپ کو اللہ کے سوا کسی ساتھ کی ضرورت نہیں رہتی‘ آپ طیب اردگان بن جاتے ہیں۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کے اندر بغاوت جاری ہے‘ یہ بغاوت پارٹیوں کیلئے کتنی خطرناک ہو سکتی ہے‘ یہ ہمارا آج کا آیشو ہوگا جبکہ عمران خان اور میاں شہباز شریف دونوں نے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی، عمران خان نے پنجاب میانوالی میں مہم کا فیتہ کاٹا جبکہ شہباز شریف نے کراچی سے اپنے انتخابی دعوؤں کا آغاز کیا‘ کیا یہ دعوے الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہوں گے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…