منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے یمن اوربرطانیہ کا عالمی ایلچی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق

datetime 23  جون‬‮  2018 |

صنعاء(انٹرنیشنل ڈیسک)یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے خبردارکیا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کا حوثی ملیشیا کے قبضیمیں رہنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق یمنی وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار برطانیہ کے وزیر برائے امور مشرق وسطیٰ الیسٹر پیرٹ سے ٹیلفیون پر بات چیت میں کیا۔انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا کو الحدیدہ بندرگاہ کے راستے ایران میزائل اور اسلحہ پہنچا رہا ہے۔

اگر یہ بندرگاہ بدستور حوثیوں کے قبضے میں رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف پورا خطہ عدم استحکام کا شکار رہے گا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ باب المندب بندرگاہ اور بحر الاحمر میں جہاز رانی کو حوثیوں کی طرف سے لاحق خطرات پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔الیمانی نے کہا کہ یمنی حکومت نے عرب اتحاد کے ساتھ مل کر حوثی باغیوں کو الحدیدہ کا کنٹرول حکومت کے حوالے کرنے اور لڑائی سے گریز کا مشورہ دیا مگر حوثیوں کی جانب سے جواب میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔ حوثی باغی قومی املاک کو کوڑیوں کے بھاؤ بلیک مارکیٹ میں فروخت کرکے اپنے جنگی اخراجات پورے کررہے ہیں۔یمن کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الحدیدہ میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں شاہ سلمان ریلیف مرکز، اماراتی ہلال احمر اور دیگر امدادی ادارے مسلسل امدادی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب برطانوی وزیر نے یمنی وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ یمن میں جاری خانہ جنگی میں ان کی حکومت صدر عبد ربہ منصور ھادی کی قیادت میں قائم آئینی حکومت کے ساتھ ہے۔ الیسٹر پیرٹ کا کہنا تھا کہ ہم الحدیدہ میں جاری لڑائی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کے خوہاں ہیں۔ دونوں وزراء نے یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…