ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس:سزا کم کروانے گئے تھے،جج نے سزا میں ہی اضافہ کردیا،دونوں کو اب کتنا عرصہ جیل کی ہوا کھانی پڑیگی؟

datetime 11  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں وفاق کی انٹرا کورٹ اپیل منظور کرتے ہوئے مجرمان سابق جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کی سزا ایک سال سے بڑھا کر تین سال کردی ٗ مجرمان کو جرمانہ بھی 50 ہزار کی بجائے ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے ادا کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو ملزمان کی اپیلوں پر ایک ہفتے میں فیصلے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق پرمشتمل سنگل بینچ نے بطور ٹرائل کورٹ اس کیس کا ٹرائل کیا تھا اور ملزمان ایڈیشنل جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ کو ایک ایک سال قید اور 50 ہزار روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دو رکنی بینچ کے سامنے انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی جس میں فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ٗ ملزمان کی سزا کے خلاف وفاق نے بھی اپیل دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزمان کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے کم سزا سنائی گئی لہٰذا اس میں اضافہ کیا جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے وفاق کی اپیل منظور کرلی۔عدالتی بینچ نے فیصلے میں مجرمان راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کی سزا میں 2،2 سال کا اضافہ کردیا جس کے بعد اب سزا 3 سال ہوگی جب کہ جرمانہ بھی پچاس ہزار سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ روپے فی کس کردیا۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…