ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس:سابق جج اور انکی اہلیہ بڑی مصیبت میں پھنس گئے چیف جسٹس نے دبنگ حکم جاری کر دیا

datetime 3  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو طیبہ تشدد کیس کے ملزمان کی اپیلوں پر ایک ہفتے میں فیصلہ کرنے کا حکم د یدیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بچوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، قانون بنانے کی ضرورت نہیں قانون پہلے سے موجود ہے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔ پیر کوچیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب ں ثار نے طیبہ تشدد کیس کی سماعت کی ۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے ملزمان کو سزائیں ہو چکی ہیں جن کی فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ واقعات کی روک تھام کے لیے پارلیمنٹ نے قانون سازی کرنا تھی اور فی الحال پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرچکی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے، قانون بنانے کی ضرورت نہیں قانون پہلے سے موجود ہے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیا کہ ہائیکورٹ طیبہ تشدد کیس کے ملزمان کی اپیلوں پر ایک ہفتے میں فیصلہ کرے۔ عدالت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق پہلے سے موجود قانون کا نوٹیفیکشن دوبارہ کیا جائے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد ملزمان نے ضمانت حاصل کرتے ہوئے نظرثانی اپیل کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…