جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کیوں ضروری ہے؟چائنہ نے 87,000ہزارڈیم بنائے ،بھارت نے 3,200 ڈیم بنائے اورپاکستان نے کتنے ڈیم بنائے ؟ افسوسناک انکشافات

datetime 3  جون‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنما عاصم رضانے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کئے بغیر توانائی کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں، گرمی کی شدت بڑھتے ہی بار بار بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے باعث انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے ، بار بار بجلی کی ٹریپنگ کی وجہ سے بجلی سے چلنے والی انڈسٹری کی متعدد مشینری جلنے لگی ہے ،

بار بار وولٹیج کے اپ اینڈ ڈاؤن ہونے سے بھی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے ، حکومت کو چاہیے کہ بجلی کے متعلقہ محکموں کو لائنز اور وولیٹج کنڑول کرنے کی ہدایات دی جائیں ،تاکہ انڈسٹری کو بجلی کی بار بار ٹریپنگ اور وولٹیج کے اپ اینڈ ڈاؤن ہونے کے باعث پہنچنے والے نقصانات سے بچایا جا سکے۔ اپنے ایک بیان میں عاصم رضا نے کہاکہ 128 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے کالا باغ ڈیم کو 5سال کی قلیل مدت میں مکمل ہونا تھا اور اس سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہونی تھی جس سے سالانہ 33 ارب 20 کروڑ روپے کی آمدنی ہونی تھی مگر سابقہ حکومتوں کی نااہلی اور ملک دشمنی کی وجہ سے اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع نہ ہو سکا۔انہوں نے کہاکہ چائنہ نے پانی ذخیرہ کرنے کیلئے 87ہزارچھوٹے بڑے ڈیم بنائے جبکہ بھارت نے 3200 چھوٹے بڑے ڈیم بنائے اس کے مقابلے میں پاکستان نے کتنے ڈیم بنائے وہ سب کے سامنے ہیں ۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کے فروغ کیلئے پانی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی انسان کو زندہ رہنے کیلئے ہے، اسی طرح انڈسٹری کو چلانے کیلئے بھی بجلی کی ضرورت ہے ،لہذا اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم سے بڑھ کر کوئی اور آپشن ہو ہی نہیں سکتی۔ لہذا موجودہ حالات میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے ۔لہذا تمام تر مخالفتوں کو پس پشت ڈال کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پوری قوم اور انڈسٹری کی اپیل ہے کہ کسی بھی طرح کالا باغ ڈیم کی تعمیر مکمل کروائی جائے جس پر آنے والی نسلیں بھی آپکی احسان مند رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…