جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے خلیجی ممالک میں پاکستان کے نام کا فائدہ اُٹھانا شروع کردیا،چاول کے بعد اب کون سی بھارتی چیز پاکستانی بتاکر فروخت کی جارہی ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  جون‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے پاکستان سے گوشت کی برامد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔گوشت کی صنعت نے 2003 سے2015 تک ستائیس فیصد ترقی کی مگر اسکے بعد سے اسکا زوال شروع ہو گیا ہے۔سال رواں کے ابتدائی سات ماہ کے دوران گوشت کی برامد 113.9 ملین ڈالر رہی جو کہ گزشتہ سال سے سات فیصد کم رہی جسکی ایک اہم وجہ غیر ملکی خریداروں کی جانب سے عدم ادائیگی ہے

جس میں خلیجی ممالک سر فہرست ہیں۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گوشت کے برامد کنندگان نے اپنے بقایا جات کی وصولی کیلئے حکومت اور دیگر ممالک میں قائم سفارتخانوں کے علاوہ کئی فورمز سے رابطے کئے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے کئی ایکسپورٹر دیوالیہ ہو گئے ہیں۔ادھر بھارتی برامدکنندگان بھی اپنا گوشت پاکستانی بتا کر فروخت کر رہے ہیں مگر پاکستانی حکومت اور سفارتحانے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر رہے ہیں۔گوشت کے مقامی برامدکنندگان میں کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں جو دیگر ممالک کے درامدکنندگان سے کئے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی میں معیاری گوشت میں غیر معیاری گوشت ملا کر بیچ رہے ہیں جس سے انکا منافع تو بڑھ جاتا ہے مگر ملک کی بدنامی ہوتی ہے مگر انھیں روکنے والا کوئی نہیں۔اگر حکومت نے صورتحال کا نوتس نہیں لیا تو آسٹریلیاء، نیوزی لینڈ اور بھارت پاکستانی گوشت کی ساری مارکیٹ ہڑپ کر جائیں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستانی چاول کوبھی بھارتی چاول ظاہرکرکے فروخت کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے پاکستان سے گوشت کی برامد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔گوشت کی صنعت نے 2003 سے2015 تک ستائیس فیصد ترقی کی مگر اسکے بعد سے اسکا زوال شروع ہو گیا ہے۔سال رواں کے ابتدائی سات ماہ کے دوران گوشت کی برامد 113.9 ملین ڈالر رہی جو کہ گزشتہ سال سے سات فیصد کم رہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…