ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ان کے کردار کے بغیر یہاں مکھی بھی نہیں اڑتی ، چیف جسٹس نے شہباز شریف کو فوری طلب کر لیا

datetime 3  جون‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو طلب کر تے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف خود پیش ہو کر وضاحت کریں کہ سرکاری افسران کو بھاری تنخواہوں پر کیسے بھرتی کیا گیا، ان کے حکم کے بغیر تو یہاں مکھی بھی نہیں اڑتی، جس کمپنی کا سربراہ قوم کا پیسہ نہ لوٹا سکا اس کو جیل ہو گی۔

اتوار کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان چھٹی کے روز ۔ 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف خود پیش ہو کر وضاحت کریں کہ سرکاری افسران کو بھاری تنخواہوں پر کیسے بھرتی کیا گیا۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کا کمپنیوں میں براہ راست کردار نہیں تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے کردار کے بغیر تو یہاں مکھی بھی نہیں اڑتی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ پوچھیں اپنے وزیراعلیٰ سے کہ وہ کہاں ہیں اور کس وقت عدالت میں پیش ہوں گے۔عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب)کو 6 کمپنیوں کے سی ای اوز کی جائیداد کا بھی تخمینہ لگانے کا حکم دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ‘پتا کریں افسران کتنی پراپرٹی کے مالک ہیں تاکہ قوم کا پیسہ واپس لوٹایا جاسکے۔اس موقع پر سربراہ اربن پلاننگ اینڈ مینیجنگ کمپنی نے کمرہ عدالت میں کہا کہ میں خودکشی کرلوں گا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کی اس دھمکی سے عدالت اپنا فیصلہ نہیں بدلے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس کمپنی کا سربراہ قوم کا پیسہ نہ لوٹا سکے اس کو جیل ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…