منگل‬‮ ، 27 اکتوبر‬‮ 2026 

تاریخ کا ادراک

datetime 5  مئی‬‮  2015

”یہ تاریخ کا ادراک نہیں رکھتے“ یہ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف پر مختصر لیکن جامع تبصرہ تھا‘ واجپائی اس تبصرے کےلئے کیوں مجبور ہوئے؟ یہ کہانی بھی کم دلچسپ نہیں‘ صدر مشرف 14 جولائی 2001ءکو پاک بھارت مذاکرات کےلئے آگرہ پہنچے‘ واجپائی اس وقت بھارت کے وزیراعظم تھے‘ وہ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتے تھے‘ یہ اس سلسلے میں 20 فروری 1999ءکو لاہور بھی آئے‘ میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی ملاقات ہوئی‘ یہ معاملات آگے بڑھ رہے تھے کہ اچانک کارگل کا واقعہ پیش آ گیا‘ کشمیر پر پیش رفت رک گئی‘ کارگل کا محاذ ٹھنڈا ہوا تو 12 اکتوبر 1999ءہو گیا‘ میاں نواز شریف فارغ ہو گے‘ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا‘ امریکا بھی اس دور میں کشمیر پر سنجیدہ تھا چنانچہ امریکی کوششوں سے واجپائی پاکستان سے دوبارہ مذاکرات کےلئے تیار ہو گئے‘ آگرہ میں میٹنگ کا فیصلہ ہوا‘ جنرل پرویز مشرف اس وقت تک ملک کے چیف ایگزیکٹو تھے‘ صدر کا عہدہ رفیق تارڑ کے پاس تھا‘ جنرل پرویز مشرف نے ان مذاکرات کو آئینی اور قانونی حیثیت دینے کےلئے رفیق تارڑ کو صدر کے عہدے سے سبکدوش کیا اور 20 جون 2001ءکو باوردی صدر بن گئے‘ یہ صدر کی حیثیت سے 14 جولائی 2001ءکو آگرہ گئے‘ بھارتی حکومت نے گرم جوشی سے استقبال کیا‘ یہ پاک بھارت تعلقات میں ایک بڑا بریک تھرو تھا‘ پاکستان اور بھارت طویل عرصے بعد اس لیول پر آئے تھے جہاں یہ باہمی مسائل کا حل تلاش کر سکتے تھے لیکن جنرل پرویز مشرف اس وقت تازہ تازہ ”ہیڈ آف سٹیٹ“ بنے تھے‘ وہ بھارت جاتے ہوئے 54 سالہ پرانی دشمنی کا صندوق بھی ساتھ لے گئے‘ وہ تین دن بھارت میں رہے‘ آگرہ میں ان کے وفد کی بھارتی زعماءکے ساتھ نصف درجن ملاقاتیں ہوئیں لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی‘ آگرہ کانفرنس ناکام ہو گئی‘ جنرل مشرف 16 جولائی کی شام ناکام واپس آ گئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مرنے کے علاوہ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…