جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ن لیگ کے ایک اور متنازعہ رہنما کی تحریک انصاف میں شمولیت پر تنازعہ،1993 میں سفا ک ملزموں نے ایم پی اے کی پشت پناہی میں دو بہنوں کو ان کے ماں باپ کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا ،شرمناک انکشافات 

datetime 3  جون‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے رہنما او ر سابق وفاقی وزیر قومی تحفظ خوراک سکندر حیات بوسن کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی کوششوں کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم پی ٹی آئی کارکنوں نے اس ممکنہ شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ابن الوقت اور مفاد پرست عناصر کو پارٹی سے دور رکھا جائے اور اعلی کردار کے حامل کارکنوں اور رہنماں کو اہمیت دی جائے

جبکہ ناقدین کاکہناہے کہ سانحہ جھوک عاربی ملتان کا مرکزی کردار، اس وقت کا ایم پی اے اور آج کا ایک اور فاروق بندیال پی ٹی آئی میں نقب لگانے کے لئے تیار ہے ۔ذرائع کے مطابق جھوک عاربی میں جنوری 1993 میں اس وقت کے ایم پی اے سکندر بوسن کی پشت پناہی کی وجہ سے سفاک ملزم نے دو بہنوں کو ان کے ماں باپ کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ،اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اس ظلم اور بربریت پر بذریعہ ہیلی کاپٹر جھوک عاربی پہنچے اور مظلوم خاندان کی دادرسی کی ، وزیراعظم نے پولیس سے پوچھا کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر بتا کہ ملزمان کہاں سے گرفتار ہوئے تو اس وقت کے ڈی ایس پی گھمن نے کہا کہ ملزمان ایم پی اے سکندر بوسن کے ڈیرے سے گرفتار کیے ،اس پر نواز شریف نے کہا کہ اگر میری پارٹی کا ایم پی اے بھی ظالم کا ساتھی ہے تو میں مظلوم کا ساتھ دونگا اور سکندر بوسن کی سخت سرزنش بھی کی ۔ ناقدین کاکہناہے کہ مذکورہ حلقہ میں بذریعہ پولیس انتقامی سیاست میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ،سعرصہ دراز سے رسہ گیری ان کی سیاست کا طرہ امتیاز ہے ، ذرائع کے مطابق 2013 میں عین موقع پر اس سیاستدان نے پی ٹی آئی کو دھوکہ دے کر نون لیگ میں شمولیت اختیار کرلی تھی ، آج پھروہ پی ٹی آئی میں شمولیت کی کوشش کر رہا ہے.یہاں یہ بات واضح رہے کہ نیب نے سکندر بوسن کے خلاف سرکاری ذرائع استعمال کرکے 300ایکڑ سرکاری زمین کو مہنگے داموں فروخت کرنے کے الزام میں ایک انکوائری بھی شروع کر رکھی ہے ۔ اس کے علاہ 1980 کی دہائی میں ملتان کے علاقے سانحہ نواب پور کے دو ملزم بھائیوں اقبال شیخانہ وغیرہ کی پشت پناہی کا الزام بھی سکندر بوسن کے سر ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ابن الوقت اور مفاد پرست عناصر کو پارٹی سے دور رکھا جائے اور اعلی کردار کے حامل کارکنوں اور رہنماں کو اہمیت دی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…