ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے حلف اٹھالیا

datetime 2  جون‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)گورنر ہاؤس میں منعقدہ سادہ اور پروقار تقریب میں گورنرسندھ محمد زبیر نے فضل الرحمان سے سندھ کے نگراں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض چیف سیکریٹری سندھ محمد رضوان میمن نے انجام دےئے۔ تقریب میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج دررانی، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا، میئر کراچی وسیم اختر ، صوبائی وزراء نثار کھوڑو، ناصر حسین شاہ ، سعید غنی ، شمیم ممتاز، سینیٹرسلیم ضیاء، ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل محمد سعید ، صوبائی محتسب اسد اشرف ملک، صوبائی سیکریٹریز ، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور عمائدین شہر نے شرکت کی۔ حلف برداری کے بعد فضل الرحمان نے تقریب کے شرکاء سے فرداً فرداً ملاقات بھی کی،اس موقع پر گورنر ہاؤس کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔حلف برداری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیر اعلی نے کہا کہ الیکشن مقررہ تاریخ پرہوں گے،ہماری اولین ترجیح میں شفاف الیکشن کرانا ہے، کوشش کریں گے پرامن ماحول میں الیکشن ہوں۔واضح رہے کہ سابق بیوروکریٹ فضل الرحمان دو بار سندھ کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں، انہوں نے اس کے علاوہ مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام بھی دی ہیں۔فضل الرحمن یکم ستمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے، 2005 سے 2010 تک دو مرتبہ سندھ کے چیف سیکرٹری رہے، جبکہ صوبائی سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ایکسائز اور دیگر عہدوں پر بھی انہوں نے خدمات سرانجام دیں۔وہ اکاونٹنٹ جنرل سندھ کے عہدے پر بھی تعینات رہے، جبکہ اس وقت سندھ کی جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…