جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

نئی داخلی سلامتی پالیسی کااعلان ،خطرناک دہشت گرد تنظیم کو کو پاکستان کے امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیاگیا، افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ بڑا اجتماع ہونے کی اطلاعات

datetime 1  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) حکومت کی جانب سے نئی داخلی سلامتی پالیسی کا اعلان کردیا گیا جس کے مطابق کالعدم دہشتگرد تنظیم داعش کو پاکستان کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قراردیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی پالیسی میں انکشاف کیا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی کئی شاخیں اور داعش کے دہشتگرد شام اور عراق سے واپس آ کرافغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔

پالیسی کی سفارشات پرعمل درآمد کے لیے وزیر داخلہ کی سربراہی میں عمل درآمد کمیٹی بنے گی، مشیر قومی سلامتی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) بھی اس کمیٹی کے رکن ہوں گے۔سیکیورٹی پالیسی میں یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ مدرسوں میں اصلاحات کی بھی سفارش کی گئی ہے۔نئی داخلی سیکیورٹی پالیسی میں مساجد اور مدارس میں خطیب، امام اور اساتذہ کو جدید علوم کی طرف راغب کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔پالیسی میں دی گئی سفارشات پرعمل درآمد کے لیے وزیر داخلہ کی سربراہی میں عمل درآمد کمیٹی بنے گی جس میں مشیر قومی سلامتی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی کے علاوہ وزارت داخلہ، دفاع،خارجہ، اطلاعات، مذہبی امور اور خزانہ کے سیکریٹریز اور نیکٹا چیف شامل ہوں گے۔وزارت داخلہ اور نیکٹا تمام اسٹیک ہولڈرز سے مل کر نئی پالیسی پرعمل درآمد یقینی بنائیں گے۔نئی پالیسی کے تحت دہشتگردوں کے بچوں اور خاندانوں کی بحالی سمیت بنیاد پرستی کی روک تھام کے منصوبے شروع کیے جائیں گے ٗمسلح گروہوں اور دہشتگرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں پر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہو گی۔آئندہ 5 سے 10 سال میں تمام مدارس کو جدیدعلوم سے روشناس ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے جبکہ آڈٹ کرانے والے مدارس کی ریاستی سطح پر مالی معاونت کی جائے گی۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجوہات پرتحقیق کے لیے وزارت داخلہ میں ریسرچ سینٹر بھی بنایا جائے گا ٗنئی داخلی سلامتی پالیسی کی تیاری میں برطانیہ، امریکا، بنگلا دیش، انڈونیشیا اور سری لنکا کی سیکیورٹی پالیسیوں سے رہنمائی لی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…