بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے کن سیاستدانوں کو سب سے زیادہ سکیورٹی فراہم کی گئی؟حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں اہم انکشاف

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ٗعوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو سرکاری خرچ پر سب سے زیادہ سیکیورٹی افسر فراہم کیے گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے خصوصی سیکریٹری رضوان ملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا

کہ شیخ رشید احمد کو 5 سیکیورٹی افسران فراہم کیے گئے ٗ عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن کو 4، 4 افسر فراہم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ایجنسیوں کی جانب سے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کے باعث ان شخصیات کو سیکیورٹی افسر فراہم کیے گئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ افسران کو مقرر کرنے میں کوئی تفریق نہیں کیونکہ کسی کو بھی سیکیورٹی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان شخصیات کے علاوہ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، وسیم سجاد اور نیئر حسین بخاری، سابق وزیر قانون زاہد حامد، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور رحمٰن ملک، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمن اور وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا کو دو سیکیورٹی افسران فراہم کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک، وفاقی محتسب کشمالہ طارق اور دیگر اداروں کے سربراہوں کو ایک ایک افسر فراہم کیا گیا۔اس دوران کمیٹی کے رکن سینیٹر چوہدری تنویر نے سوال کیا کہ کس طرح شیخ رشید احمد سب سے زیادہ سیکیورٹی کا حقدار سمجھا جاتا ہے؟ یہ نہ انصافی ہے کہ 2 پولیس کی گاڑیاں ہر وقت ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔سیکریٹری داخلہ نے جواب دیا کہ شیخ رشید پر پہلے خود کش حملہ ہوچکا ہے جبکہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل سیکیورٹی وقار چوہان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو صرف وفاقی دارالحکومت کی حدود کے درمیان اسلام آباد پولیس کی جانب

سے سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔اس موقع پر اجلاس میں مدعو کیے گئے جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے وزارت داخلہ کے دعوے کو مسترد کیا کہ ہر فرد کو خطرات کے حساب سے سیکیورٹی دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کسی ایجنسی نے سیکیورٹی خطرات سے آگاہ نہیں کیا تھا لیکن 12 مئی 2017 کو مجھ پر بلوچستان میں حملہ ہوا، جس میں 26 افراد جاں بحق اور 50 کے قریب زخمی ہوئے، تاہم میں خوش قسمتی سے محفوظ رہا تھا۔

انہوں نے کہاکہ جب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ تھا تو مجھے سیکیورٹی فراہم کی جاتی تھی لیکن اس کے بعد متعدد درخواستوں کے باوجود مجھے ایک افسر تک فراہم نہیں کیا گیا۔عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ میں نے اس معاملے پر پولیس سربراہان، یہاں تک کہ وزارت داخلہ تک کو خط لکھا لیکن کسی نے میرے معاملے پر توجہ نہیں دی۔مولانا غفور حیدری کے اعتراض پر سینیٹر جاوید عباسی نے کا کہنا تھا کہ آپ کو فراہم کی گئی سیکیورٹی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے حکم کے بعد واپس لی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…