منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت پاکستان کا زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مالی خسارے کے پیشِ نظر ایک بار پھر غیر ملکی قرضہ لینے کا فیصلہ،اب مزید کتنا قرض لیاجائیگا؟ مفتاح اسماعیل نے اعلان کردیا

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

دبئی(این این آئی) حکومت پاکستان نے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور مالی خسارے کے پیشِ نظر ایک بار پھر غیر ملکی قرضہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے 3 بینکوں سے لیا جائے گا، اس سلسلے میں بینکنگ معاملات سے وابستہ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے 20 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لینے کا قدم ادائیگیوں کے توازن پہ پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کیلئے اٹھایا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک سال کی ضمانت پر دیا جانے والا

یہ قرضہ کمرشل بینک آف دبئی، ایمریٹس این بی ڈی اور نور بینک فراہم کریں گے۔واضح رہے کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کی کمی کو متوازن کرنے اور مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے پاکستان کو فنڈنگ کی ضرورت ہے، اسی تناظر میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق پاکستان کا مالی خسارہ مجموعی ملکی پیداوار کا 5.5 فیصد ہے۔اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ 20 کروڑ ڈالر کا یہ قرض پاکستان کے پہلے سے لیے گئے قرضوں کی دوبارہ ادائیگی میں مدد فراہم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ رقم خزانے میں اضافے کے لیے حاصل کررہے ہیں جیسا کہ ہم نے مختلف اداروں کو ادائیگیاں کی ہیں اس لیے ہمیں اپنے خزانے میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتوں میں یہ قرض 35 کروڑ ڈالر تک جاسکتا ہے اور اس کے بعد حکومت اتنی ہی مالیت کی پاکستانی کرنسی متروک کردے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے لیے گئے قرضے کی نوعیت تبدیل ہوگی تاہم مجموعی طور پرقرض میں اضافہ نہیں ہوگا، تینوں اماراتی بینکوں کی جانب سے دیگ قرض دہندگان کو بھی تجارتی قرضے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…