اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

مچھروں کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں؟ سائنسدانوں نے آسان طریقہ جان لیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا کے سب سے خطرناک جاندار کا لقب مچھروں کو دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں سے ہر سال لاکھوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

روزمرہ کی زندگی میں ان سے بچنا آسان نہیں ہوتا، لیکن سائنسدانوں نے اب ایک مؤثر اور سادہ طریقہ تجویز کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ مچھر آپ کے قریب نہ آئیں تو سن اسکرین کا استعمال کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ انکشاف نیدرلینڈز میں کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق کی تفصیلات

Radboud یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے نیدرلینڈز کے علاقے Biddinghuizen میں ہونے والے ایک میوزک فیسٹیول کے دوران تجربہ کیا۔ تین دن تک شپنگ کنٹینرز کو عارضی لیبارٹریز میں بدل دیا گیا، جہاں فیسٹیول میں شریک افراد نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔

رضاکاروں نے اپنے ہاتھ شفاف ایکریلک بکسوں میں ڈالے جن میں مچھر موجود تھے۔ کیمروں اور کمپیوٹرز کے ذریعے یہ ریکارڈ کیا گیا کہ مچھر کس حد تک ان افراد کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

حیران کن نتائج

500 سے زائد افراد پر ہونے والے تجربے میں یہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش تھے، جبکہ کچھ کی طرف مچھر خاص توجہ نہیں دیتے۔
تحقیق کے مطابق بیئر پینے والے افراد مچھروں کے لیے 44 فیصد زیادہ کشش رکھتے ہیں۔ اسی طرح، ایسے لوگ جو دوسروں کے قریب سوتے ہیں، وہ بھی مچھروں کے نشانے پر جلد آ جاتے ہیں۔

مچھروں سے بچاؤ کا طریقہ

سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ سن اسکرین استعمال کرنے والوں پر مچھر کم حملہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سن اسکرین لگانے والے افراد پر مچھروں کے حملوں میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

اگرچہ ماہرین نے یہ تسلیم کیا کہ تحقیق کے شرکاء زیادہ تر نوجوان تھے اس لیے نتائج ہر عمر کے افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے، لیکن اس مطالعے نے یہ ضرور واضح کر دیا کہ مچھر کن لوگوں کو اپنا آسان شکار سمجھتے ہیں اور ان سے بچنے کے طریقے کیا ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…