جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پشاور میں پیشہ ورگداگروں پر پابندی عائد، مختلف علاقوں سے 106 گداگر فلاحی مراکز منتقل ،رہا کس شرط پر کیاجاتاہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

پشاور میں پیشہ ورگداگروں پر پابندی عائد، مختلف علاقوں سے 106 گداگر فلاحی مراکز منتقل ،رہا کس شرط پر کیاجاتاہے؟ حیرت انگیزانکشافات پشاور(آن لائن)ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کر تے ہوئے 106پیشہ ور گداگروں کو فلاحی مراکز منتقل کر دیا۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر پشاورڈاکٹر عمران حامد شیخ نے

پیشہ ور گداگروں پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اور اس کے لیےاسسٹنٹ کمشنر یوٹی فرقان اشرف کی نگرانی میں سکواڈ تشکیل دیا ہوا ہے۔ جس میں چائلڈ پرٹیکشن آفیسر وقار احمد سمیت میل و فی میل پولیس اور سوشل ویلفےئر کے اہلکار شامل ہیں۔ سکواڈ نے رمضان کے سات دنوں میں کاروائی کر تے ہوئے پشاور کے مختلف علاقوں سے پیشہ ور گداگروں کو فلاحی مراکز منتقل کیا۔ ان فلاحی مراکز میں ان گداگروں کی خصوصی تربیت کی جا رہی ہے جس میں ان کو گداگری کی لعنت کے بارے میں آگاہ کیا جا تا ہے اور بعد میں بچوں کو ان کے والدین اور علاقے کے مشران کی ضمانت پر اس شرط پر رہا کیا جا تا ہے کہ وہ بعد میں اپنے بچوں سے بھیک نہیں منگوائیں گے۔ جبکہ بالغان کو بھی ان کے رشتہ داروں اور علاقہ مشران کی ضمانت پر رہا کیا جا تا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا انسداد گداگری سکواڈ روزانہ کی بنیاد پر پشاور کے مختلف علاقوں میں کاروائی کر رہا ہے اور اس مہم کا مقصد پشاور کو پیشہ ور گداگروں سے پاک کر نا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں پشاور میں پیشہ ورانہ گداگری میں کافی حد تک کمی آجا ئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…