جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پرویز خٹک کے ساتھ اپنے ہی انتخابی حلقے میں وہ ہوگیا کہ کبھی سوچابھی نہ ہوگا،’’گو پرویز گو ‘‘ گو عمران گو ‘‘ کے نعرے،پی ٹی آئی کے جھنڈے نذر آتش ،بات بڑھ گئی، شدید شرمندگی کا سامنا

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

نوشہرہ(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی انتخابی حلقے میں آمد پر لوگوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ’’گو پرویز گو ‘‘ گو عمران گو ‘‘ کے نعرے لگائے ٗ مظاہرین نے پی ٹی آئی کے جھنڈے نذر آتش کر دیئے ٗ ٹائر جلائے ۔تفصیلات کے مطابق

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو اپنے حلقے کا دورہ مہنگا پڑ گیا ٗپرویز خٹک غلہ ڈھیر میرہ پہنچے تو مقامی افراد نے سیاہ جھنڈے لہراتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا ٗمقامی افراد نے وزیراعلیٰ کے سامنے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کیے۔مقامی افراد نے وزیراعلیٰ کے سامنے گیس کی فراہمی کا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے باوجود علاقے میں سوئی گیس کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی جس پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت نے فنڈ جمع کرا دیا تاہم الیکشن کمیشن نے کاموں پر پابندی لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے منصوبہ شروع نہیں ہوسکا۔وزیراعلیٰ نے سیاہ جھنڈے لہرانے اور عمران خان کے خلاف نعرے بازی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ کون ووٹ دیتا ہے اور کون صرف شرارتیں کرتا ہے، جسے ووٹ دینا ہے وہ دے، جسے نہیں دینا وہ نہ دے، میں خدمت کیلئے آیا ہوں، میں نے آپ کو عزت دی اور آپ نے کالے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے علاقے سے جانے کے بعد لوگوں نے پی ٹی آئی کے جھنڈے نذر آتش کر دیئے اور احتجاج جاری رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…