جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

لیگی قیادت کیخلاف مفروضوں پر کی جانے والی تحقیقات سے اداروں کی بدنامی ہو رہی ہے ‘پرویز ملک

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ(ن) لاہور کے صدر و وفاقی وزیر محمد پرویز ملک اور صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ لیگی قیادت کیخلاف مفروضوں پر کی جانے والی تحقیقات کی قانونی حیثیت کیا ہوگی،اس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں اورادارے خود ہی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں،اتنا عرصہ ٹرائل کرنے کے باوجود کچھ نہیں ملا نہ ہی جھوٹے الزامات

لگانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے،زرداری ہاوس اوربنی گالا ہم نوالہ،ہم پیالہ ہیں۔ خان صاحب خود کہہ چکے ہیں کہ سینٹ کے الیکشن میں انہیں40کروڑ روپے کی آفر ہوئی،وہ دو پاکستان کی بجائے ایک پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں لیکن وہ کوئی ایک مثال اور اقدام تو ایسا بتائیں جو انہوں نے ایک پاکستان بنانے کے حوالے سے کیا ہے۔ ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز لاہور دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ارکان اسمبلی چوہدری شہباز،میاں مرغوب احمد،سید توصیف شاہ،سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف،عامر خان،چوہدری عبدالمجید چن نمبردار،جاوید اقبال سمیت دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ 70کروڑ روپے کی لاگت سے احتساب کا ادارہ بنایا جو آج بھی بند ہے اوراس ادارے میں کرپشن پر کسی ایک کو بھی ادارے نے سزا نہیں دی۔نیازی صاحب نے کے پی کے میں ایک ارب درخت لگانے کا جھوٹ بولا اوروہ دن رات جھوٹ بول رہے ہیں۔الزام تراشی اورجھوٹ بولنا عمران نیازی کا معمول بن چکا ہے۔2018ء کے انتخابات میں قوم اس کا انہیں جواب دے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…